ایف-4 طیارہ
فینٹم یا ایف-4، امریکہ کا تیار کردہ ایک لڑاکا طیارہ ہے جو 1968 میں ایران لایا گیا اور ایران کے خلاف عراق کی مسلط کردہ جنگ میں، جنگی اور جاسوسی کے دوہرے کرداروں میں ایرانی فضائی کارروائیوں کا ایک اہم ستون سمجھا جاتا تھا۔
فینٹم، جس کا مطلب " شبح" (سایہ یا بھوت) ہے، دو سیٹوں اور دو انجنوں والے ایف-4 لڑاکا طیارے کا دوسرا نام ہے جس نے 27 مئی 1958 کو امریکی کمپنی میک ڈونل ڈگلس (McDonnell Douglas) کے زیرِ انتظام اپنی پہلی پرواز کی۔[1] یہ بمبار اور انٹرسیپٹر لڑاکا طیارہ، جو دو ٹربوجیٹ انجنوں کا حامل ہے، آواز کی رفتار سے دو گنا زیادہ تیز اڑنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ ان انجنوں کی بدولت فینٹم 30 کلومیٹر سے زائد بلندی تک جا سکتا ہے اور فضا میں ایندھن بھرے بغیر 3700 کلومیٹر سے زیادہ کا فاصلہ طے کر سکتا ہے۔[2] یہ طیارہ اپنی باڈی کے اوپر لگے نو مقامات پر 8 ٹن سے زائد مختلف اقسام کا اسلحہ بشمول بم، میزائل اور راکٹ لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے اور اس میں ایک 20 ملی میٹر کی ایم-61 ولکن (M61 Vulcan) مشین گن نصب ہے۔[3] یہ لڑاکا طیارہ امریکی بحریہ میں خدمات انجام دینے اور طیارہ بردار بحری جہازوں (Aircraft Carriers) سے اڑنے اور اترنے کے لیے ڈیزائن کیا گیا تھا۔ فینٹم نے ویتنام پر امریکی حملے میں اہم کردار ادا کیا اور جاپان، مصر، ترکی، یونان، برطانیہ، جرمنی اور ایران سمیت کئی ممالک کی فضائی حدود میں اپنی خدمات پیش کیں۔[4]
امریکہ اور برطانیہ کے بعد ایران پہلا ملک تھا جس نے اس لڑاکا طیارے کا استعمال کیا۔ ایران کو ملنے والے فینٹم طیاروں کی پہلی کھیپ " D" ماڈل کی تھی، جو 18 ستمبر 1968 کو ایران کے حوالے کی گئی، اور اس کے ساتھ ہی تہران کے ' مہر آباد' ایئر بیس پر ایران کا پہلا فینٹم اسکواڈرن قائم ہوا۔[5] 1971 میں فینٹم کا مزید جدید ورژن ' ایف-4 ای' (F-4 E) ایران کے حوالے کیا گیا جو جنگی اور جاسوسی، دونوں اقسام پر مشتمل تھا۔ اس کا جاسوسی ورژن (RF-4) کئی جدید کیمروں سے لیس تھا، جو مختلف اہداف کی فضائی فوٹو گرافی کی سہولت فراہم کرتا تھا۔[6] ایران نے 1968 میں 32 عدد فینٹم-ڈی، اور 1971 میں امریکہ سے 177 عدد فینٹم-ای اور 16 عدد آر-ایف (RF) طیارے خریدے۔[7]
فینٹم طیاروں کی بڑی تعداد اور ان کی کثیر المقاصد صلاحیتوں کی وجہ سے یہ طیارہ ایرانی فضائیہ کی ریڑھ کی ہڈی بن گیا۔
1980 میں مسلط کردہ جنگ کے آغاز پر، پہلے، تیسرے، چھٹے اور نویں فائٹر بیسز پر موجود 196 عدد ایف-4 طیاروں میں سے صرف 147 طیارے آپریشنل حالت میں تھے۔[8]
جنگ کے پہلے ہی دن، بوشہر کے چھٹے بیس سے چار فینٹم طیاروں نے اڑان بھری اور بصرہ میں ' شعیبیہ' ایئر بیس پر بمباری کی[9] اور چار طیاروں نے ہمدان کے تیسرے بیس سے اڑان بھر کر العمارہ میں ' کوت' ایئر بیس کو نشانہ بنایا۔[10]
23 ستمبر 1980 کو ' آپریشن کمان-99' کے دوران، 16 فینٹم طیاروں نے العمارہ میں کوت بیس، 12 طیاروں نے بصرہ کے شعیبیہ بیس اور 12 طیاروں نے بغداد کے الرشید بیس کو نشانہ بنایا، جو عراقی فوج کی فضائی طاقت کے لیے ایک بڑا دھچکا تھا۔[11]
فینٹم طیاروں کے اہم مشنوں میں سے ایک جنگ کی فرنٹ لائنز پر عراقی فوج کی بکتر بند (Armored) طاقت کو نابود کرنا تھا۔ فینٹم طیاروں کی اس کارروائی سے ایک طرف تو دشمن کی بکتر بند قوت تباہ ہوتی اور عراقی فوجیوں کے دلوں میں رعب و دہشت پیدا ہوتی، تو دوسری طرف عراقی فوج کے مدِ مقابل مورچوں میں موجود ایرانج افواج کے حوصلے بلند ہوتے تھے۔ دفاعِ مقدس کے بعض ایام میں، فینٹم طیارے فرنٹ لائنز پر روزانہ 150 مرتبہ بمباری کے مشن انجام دے کر دشمن پر کاری ضربیں لگاتے تھے۔
فینٹم طیاروں کا ایک اور مشن عراقی ریفائنریوں کو تباہ کرنا تھا، جس کے لیے وہ مارک سیریز کے عام بموں، لیزر گائیڈڈ، ٹیلی ویژن گائیڈڈ، کلسٹر اور آتش گیر بموں سمیت مختلف اقسام کے اسلحے کا استعمال کرتے تھے۔ تاہم، بعثی فوج کی ' اوزا' (Osa) کلاس کی بحری کشتیوں کو نشانہ بنانا ایک الگ ہی کام تھا؛ کیونکہ اینٹی شپ میزائل موجود نہ ہونے کی وجہ سے 4 یا 5 ' ماوریک' (Maverick) میزائل فائر کرنا ضروری ہوتا تھا۔[12] فینٹم طیارے زیادہ بلندی پر اڑان بھر کر دشمن پر بم گرا کر ان کے ساز و سامان اور افرادی قوت کو شدید نقصان پہنچاتے تھے، اور یہ طریقہ فینٹم طیاروں کے ذریعے بمباری کے سب سے زیادہ استعمال ہونے والے طریقوں میں سے ایک تھا۔[13] فینٹم طیاروں کے بڑے اقدامات میں سے ایک 4 اپریل 1981 کو ' ایچ-3' (H-3) نامی آپریشن میں شرکت تھی۔ اس آپریشن میں 8 فینٹم طیاروں نے 1700 کلومیٹر کا فاصلہ طے کر کے ' الولید' ایئر بیسز پر حملہ کیا اور دنیا کے حیرت انگیز ترین فضائی آپریشنز میں سے ایک کو انجام دیا، جس کے دوران دشمن کے 50 طیارے تباہ کر دیے گئے۔[14] ان جنگی طیاروں کی ذمہ داریوں کا ایک اور حصہ جاسوسی کے مشن تھے، جو ' ناصر' آپریشنز کے نام سے ریڈار اسٹیشنوں، فائٹر کنٹرولرز اور دیگر یونٹوں کے اشتراک سے انجام دیے جاتے تھے۔[15] ان (طیاروں سے لی گئی) تصاویر سے دشمن کی افرادی قوت، ساز و سامان کی تعداد، ان کی ترتیب اور تعیناتی کے مقامات کے بارے میں دقیق معلومات کمانڈروں اور آپریشن ڈیزائنرز کو حاصل ہوتی تھیں۔ 1982 میں عراقی حکومت نے ' غیر وابستہ تحریک' (NAM) کے سربراہی اجلاس کی میزبانی کر کے اپنی سرزمین کی سلامتی کا رعب جمانے اور اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف عالمی اتفاقِ رائے پیدا کرنے کا ارادہ کر رکھا تھا، لیکن اسی سال 21 جولائی کو ' عباس دوران' کی قیادت میں دو فینٹم طیاروں نے بغداد کی ' الدورہ' ریفائنری کو نشانہ بنا کر اور عباس دوران کی شہادت پسندانہ کارروائی کے ذریعے اس اجلاس کے انعقاد کو روک دیا۔[16]
جنگ طویل ہونے اور عراقی ' میگ-25' طیاروں کے میدانِ جنگ میں آنے اور ان کے مقابلے کے لیے مناسب میزائل نہ ہونے کی وجہ سے، فضائیہ کی ' جہادِ خود کفالت' تنظیم نے اس مسئلے کے حل کے لیے کوششیں شروع کیں۔ انہوں نے ' اسٹینڈرڈ' اینٹی شپ میزائل کے ریڈار کو فضائی ریڈار میں تبدیل کر کے اور اسے فینٹم طیاروں پر نصب کر کے، ان طیاروں میں جارح میگ طیاروں کے مقابلے کی صلاحیت پیدا کر دی۔[17]
فینٹم طیاروں نے دفاعِ مقدس کے دوران اسٹریٹجک پلوں، ریفائنریوں، چھاؤنیوں اور عراق کی اہم بندرگاہوں کو تباہ کرنے کے علاوہ، ان اکثر آپریشنز میں بھی حصہ لیا جو آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے دوران انجام پائے؛ مثلاً 25 اکتوبر 1980 کو بندر ماہشہر میں ' 144 انفنٹری بٹالین' کا آپریشن، 28 مارچ 1981 کو ' آپریشن ثامن الائمہ (ع) ' کی مدد کے لیے ' شبح-2' آپریشن، 26 فروری 1982 کو ' آپریشن فتح المبین' کی مدد کے لیے ' شبح-3' آپریشن، 20 اپریل 1982 کو ' آپریشن بیت المقدس' کی فضائی مدد، 1986 میں ' آپریشن والفجر-8' کی مدد کے لیے ' آپریشن شفق' اور 26 جولائی 1988 کو ' آپریشن مرصاد' کی فضائی مدد شامل ہیں۔[18]
ایف-4 طیاروں نے آٹھ سالہ مسلط کردہ جنگ کے دوران، فضا میں ایندھن بھرنے کے عمل کے علاوہ، مجموعی طور پر 57,000 پروازیں کیں۔ جنگ کے خاتمے (1988) تک، مختلف مشنوں کے دوران 106 ایف-4 طیارے مار گرائے گئے۔[19]
دفاعِ مقدس کے دور میں، منوچهر محققی نے 182 پروازوں کے ساتھ فینٹم طیارے کے ذریعے سب سے زیادہ جنگی مشن سر انجام دیے۔[20] محمود اسکندری اور شہداء فریدون ذوالفقاری، علی رضا یاسینی، عباس دوران اور حسین خلعتبری دفاعِ مقدس میں فینٹم کے نمایاں ترین پائلٹوں میں شامل تھے۔[21]
مسلط کردہ جنگ کے خاتمے کے بعد، اور اس حقیقت کے پیشِ نظر کہ فینٹم کے اسٹرائیک بمبار اسکواڈرنز اب بھی ایران کی فضائی طاقت کا ایک اہم حصہ ہیں،[22] فینٹم طیاروں کے سسٹمز اور اسلحے کو جدید تقاضوں کے مطابق اپ گریڈ کیا گیا ہے[23] اور وہ اب بھی فضائی حملے کے مابعد مشنوں کے لیے مکمل طور پر تیار ہیں۔
حوالہ جات
- [1]. علی بابایی، غلام رضا، «تاریخ نیروی هوایی ایران از پهلوی تا انقلاب»، تهران، آشیان، 2004، ص 390.
- [2]. سابق، 2004، ص 102.
- [3]. ماهنامه «صنایع هوایی»، سال 23، ش 263، جولائی 2013، ص 1.
- [4]. علی بابایی، غلام رضا، سابق، 2004، ص 390.
- [5]. سابق، 2004، ص 102
- [6]. بابایی، محمدرضا، «بال های قدرت هوایی ـ شرحی بر هواپیماها و بالگردهای نیروی هوایی»، تهران، مرکز انتشارات راهبردی نهاجا، 2019، ص 148.
- [7]. علی بابایی، غلام رضا، سابق، 2004، ص 439 و 440
- [8]. حبیبی، نیک بخش و علی غلامی، «دفاع مقدس هوایی»، تهران، مرکز انتشارات راهبردی نهاجا، 2018، ص 729.
- [9]. خامه یار، محمد، «اولین های دفاع مقدس»، تهران، پارسااندیش، 2010، ص 120، 121، 122.
- [10]. نمکی، علی رضا، «نیروی هوایی در دفاع مقدس آشنایی با توانایی و عملکرد نیروی هوایی ارتش در دفاع مقدس»، تهران، ایران سبز، 2010، ص 121
- [11]. سابق، 2010، ص 131 و 133.
- [12]. «پیشاهنگ مصاحبه با امیر سرتیپ دوم خلبان مسعود اقدام»، ماهنامه «صنایع هوایی»، سال 23، ش 263، جولائی 2013، ص 15 و 16.
- [13]. «فرشی از بمب مصاحبه با معلم خلبان فانتوم ناصر رضایی»، ماهنامه «صنایع هوایی»، سال 22، ش 257، جنوری 2013، ص 13.
- [14]. مهرنیا، احمد، «حمله هوایی به الولید (اچ -3) - انهدام انواع هواپیماها و تجهیزات موجود در مجموعه پایگاه های سه گانه الولید معروف به اچ-3»، تهران، سوره مهر، 2016، ص 19.
- [15]. نمکی، علی رضا، سابق، 2010، ص 160
- [16]. قاضی میرسعید، سیدحکمت، «بمبی در کابین ـ حماسه خلبان شهید سرلشکر دوران»، تهران، بنیاد حفظ آثار و نشر ارزش های دفاع مقدس، 2009، ص 177.
- [17]. نمکی، علی رضا، سابق، 2010، ص 324.
- [18]. سابق، 2010، ص9 اور 10
- [19]. حبیبی، نیک بخش و علی غلامی، سابق، 2018، ص 729 و 730.
- [20]. «رکورد دار پرواز رزمی برون مرزی با فانتوم، دارفانی را وداع گفت»، خبرگزاری ایرنا، 1 اکتوبر2021
- [21]. «برترین خلبانان ایران در دوران دفاع مقدس»، خبرآنلاین، 17 اتمبر 2020.
- [22]. ماهنامه «صنایع هوایی»، سال 22، ش 262، جون 2013، ص 2 و 3.
- [23]. نصرتی، مهرداد، «کوچکترین تهدید دشمنان را کوبنده تر پاسخ خواهیم داد: گفت وگو با فرمانده پایگاه هوایی شهید عبدالکریمی بندرعباس»، ماهنامه «صف»، سال 98، ش 463، مارچ 2020، ص 22.