تہران23 ویں ڈویژن نوہد

نوہد" ’ نیروهای ویژه هوابرد‘ (اسپیشل ایئر برن فورسز) کا مخفف ہے، جنہوں نے ایران پر عراق کی مسلط کردہ جنگ کے دوران " فوج کی زمینی طاقت کی 23 ویں نوہد بریگیڈ" کے طور پر مختلف جنگی علاقوں میں اپنی خدمات انجام دیں۔

ایران میں اسپیشل ایئر برن فورسز (نوہد) کے قیام کی بنیاد 1953 میں رکھی گئی جب فوج کے چند مایہ ناز اہلکاروں کو پیراشوٹنگ کورس کی تربیت کے لیے فرانس بھیجا گیا۔ فرانس سے ان افراد کی واپسی پر اس یونٹ کو تہران کی " باغ شاہ" چھاؤنی میں غیر ملکی (خاص طور پر امریکی) فوجی مشیروں کی زیرِ نگرانی قائم کیا گیا۔ ابتدا میں ایک پیراشوٹ یونٹ بنایا گیا جو 1958 سے 1960 کے درمیان پیراشوٹ بٹالین میں تبدیل ہو گیا۔⁠[1] 1966 میں اس پیراشوٹ بٹالین کو پانچ بٹالینز پر مشتمل " سپیشل ایئر برن فورسز بریگیڈ" (نوہد) کا درجہ دے دیا گیا، جو اپنی سبز ٹوپیوں کی وجہ  سے مشہور ہوئے۔⁠[2]   1977 میں دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کے لیے " یرغمالیوں کی رہائی کا یونٹ" بھی نوہد بریگیڈ کے ڈھانچے میں شامل کیا گیا۔⁠[3]

دوسرے پہلوی کے دورِ حکومت میں نوہد بریگیڈ کی اہم سرگرمیوں میں 1969⁠[4]میں " دلاوران" آپریشن کے دوران عراقی کرد مخالفین کی مدد اور رہنمائی، 1972 سے 1975 تک عمان میں ظفار کی جنگ میں شرکت،⁠[5] اور 1974 میں تہران میں ہونے والے ایشین گیمز کی سیکیورٹی فراہم کرنا شامل ہے۔⁠[6]   فروری 1979 میں اسلامی انقلاب کی کامیابی اور پاسدارانِ انقلاب (سپاہ) کے قیام کے بعد، 23 ویں نوہد بریگیڈ کے اہلکاروں نے پاسدارانِ انقلاب کے ابتدائی دستوں کی تربیت کی ذمہ داری سنبھالی۔⁠[7] انقلاب کے آغاز میں ہی کردستان میں پیدا ہونے والے بحران کے دوران اس بریگیڈ کے جوانوں نے مختلف علاقوں کو مسلح مخالفین سے پاک کرنے میں اہم کردار ادا کیا، جن میں سردشت، پیران شہر اور بانہہ کے راستوں کو صاف کرنا نمایاں ہے۔⁠[8]

مسلط کردہ جنگ کے آغاز پر اس بریگیڈ کی دو بٹالینز (137 اور 154) مغربی علاقے اور ایک بٹالین (172) جنوبی علاقے میں روانہ کی گئی۔⁠[9] اہواز کے محاذ پر شہید چمران کی " ستادِ جنگ‌ ہائے نامنظم" (غیر منظم جنگی ہیڈ کوارٹر) کے اہم ارکان بھی اسی بریگیڈ کے افسران پر مشتمل تھے۔⁠[10]

اسی طرح فوج کی " 58 ویں تکاور ذولفقار ڈویژن" کی بنیادی تشکیل بھی 23 ویں نوہد بریگیڈ کے جوانوں کے ذریعے عمل میں آئی۔⁠[11]

اس بریگیڈ نے 1982 میں آپریشن بیت المقدس اور خرم شہر کی آزادی میں اپنی 154، 172، 137 اور 192 بٹالینز کے ساتھ شرکت کی۔ اس آپریشن کے دوران 23 ویں بریگیڈ دریائے کارون کو پار کرنے اور دشمن کی دفاعی لائن توڑنے کے بعد اہواز-خرم شہر شاہراہ اور پھر عراقی سرحد تک پہنچنے میں کامیاب رہی۔ اس بریگیڈ کی 154 ویں بٹالین 24 مئی 1982 کو خرم شہر میں داخل ہوئی اور اس کی آزادی میں حصہ لیا۔⁠[12]

جولائی 1983 میں 23 ویں بریگیڈ کے ڈھانچے کو وسعت دے کر اسے " 23 ویں اسپیشل فورسز ڈویژن" کا درجہ دے دیا گیا⁠[13]، جس میں دو کمانڈو بریگیڈز اور ایک نوہد بریگیڈ شامل تھی۔⁠[14]

1985 میں پیران شہر کے سرحدی علاقے میں فوج اور پاسدارانِ انقلاب نے مشترکہ طور پر " آپریشن قادر" انجام دیا جس میں 23 ویں اسپیشل فورسز ڈویژن موجود تھی۔ جولائی اور ستمبر 1985 میں " قادر 1" اور " قادر 2" آپریشنز کے دوران اس ڈویژن نے دیگر یونٹوں کے ساتھ مل کر کئی سرحدی بلندیوں پر قبضہ کیا۔ آپریشن قادر 2 کے دوران 23 ویں ڈویژن کے اس وقت کے کمانڈر کرنل حسن آبشناسان شہید ہو گئے۔⁠[15]

یہ ڈویژن رمضان، والفجر 2، والفجر 4، بدر اور نصر 7 جیسے آپریشنز میں شریک رہی،⁠[16] اور دفاعِ مقدس کے دوران کئی کارروائیوں میں عراق کی سرزمین کے اندر تک نفوذ اور معلومات جمع کرنے کی ذمہ داری بھی اسی کے پاس تھی۔⁠[17]

خرم شہر کی فتح کے بعد، 23 ویں ڈویژن کا ایک حصہ سیکیورٹی برقرار رکھنے کے لیے مغربی آذربائیجان بھیجا گیا جہاں وہ 1991 تک پیران شہر کے علاقے " پسوہ" میں تعینات رہے۔ اس کے بعد یہ دستے سرپلِ ذہاب (کرمانشاہ) روانہ کیے گئے اور 1993 تک اس سرحدی علاقے میں مقیم رہے۔⁠[18]

دفاعِ مقدس کے دوران 23 ویں ڈویژن کے 1,678 اہلکار شہید ہوئے،⁠[19] جن میں بریگیڈیئر جنرل حسن آبشناسان، کرنل ابراہیم علی اصغرلو، میجر حسین شہرام فر اور میجر حسن ہداوند میرزائی نمایاں ہیں۔⁠[20]   اس ڈویژن کے 4,873 اہلکار زخمی ہوئے جبکہ 176 اہلکاروں کو دشمن کی فوج نے جنگی قیدی بنا لیا۔⁠[21]

جنگ کے خاتمے کے بعد 23 ویں ڈویژن کی انجینئرنگ بٹالین نے بارودی سرنگوں سے آلودہ علاقوں کی صفائی میں حصہ لیا۔⁠[22] مثال کے طور پر 1991 سے 1992 کے دوران سومار اور نفت شہر⁠[23] کے علاقوں میں تقریباً 1,200 ہیکٹر اراضی کو بارودی سرنگوں سے پاک کیا۔⁠[24]

مارچ 1992 میں تیسری نوہد بریگیڈ مع یرغمالیوں کی رہائی کے یونٹ، نفسیاتی آپریشنز کی کمپنی، غیر منظم جنگی ٹریننگ اسکول، سپورٹ بٹالین اور ہیڈ کوارٹر کمپنی کے، 23 ویں ڈویژن سے الگ ہو گئی اور تہران کے افسریہ کیمپ کے مغربی حصے میں منتقل ہو کر " 65 ویں نوہد بریگیڈ" تشکیل دی۔⁠[25]

دفاعِ مقدس کے دوران 23 ویں نوہد بریگیڈ کی کمانڈ کرنل شہرام رامتین اور پھر کرنل محمد محمدی کے پاس رہی۔⁠[26] ڈویژن بننے کے بعد اس کی کمانڈ بالترتیب کرنل محمد محمدی، شہید میجر جنرل حسین آبشناسان، دوبارہ کرنل محمد محمدی، سیکنڈ بریگیڈیئر جنرل اردشیر زوالت اور سیکنڈ بریگیڈیئر جنرل فرہاد بہروزی نے سنبھالی۔⁠[27]

سال 2021 سے اب تک کرنل علی محمدی 65 ویں نوہد بریگیڈ کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔⁠[28]

 


حوالہ جات

  • [1]. ماہنامہ " صف"، شمارہ 354، مئی 2010، ص 33۔
  • [2]. زوالت، اردشیر، " نیرو مخصوص (کلاہ سبزہا) "، تہران، آتشبار، 2021، ص 38۔
  • [3]. ایضاً، ص 39۔
  • [4]. ایضاً، ص 121۔
  • [5]. ایضاً، ص 67۔
  • [6]. ایضاً، ص 95۔
  • [7]. ماہنامہ " صف"، شمارہ 354، مئی 2010، ص 33۔
  • [8]. ایضاً، ص 34۔
  • [9]. زوالت، اردشیر، ایضاً، ص 126۔
  • [10]. ماہنامہ " صف"، شمارہ 414، اکتوبر/نومبر 2015، ص 10۔
  • [11]. ایضاً، شمارہ 354، مئی 2010، ص 33۔
  • [12]. زوالت، اردشیر، ایضاً، ص 175-219۔
  • [13]. ایضاً، ص 246 اور 247۔
  • [14]. ماہنامہ " صف"، شمارہ 414، اکتوبر/نومبر 2015، ص 8۔
  • [15]. جعفری، مجتبیٰ، " اطلسِ نبردہائے ماندگار"، تہران، سورہ سبز، 50 واں ایڈیشن، 2019، ص 110 اور 112؛ کامیاب، محمد، " عملیاتِ قادر"، تہران، ایرانِ سبز، 2013، ص 31 اور 32
  • [16]. زوالت، اردشیر، ایضاً، ص 402۔
  • [17]. ماہنامہ " صف"، شمارہ 414، اکتوبر/نومبر 2015، ص 10۔
  • [18]. ایضاً، شمارہ 305، اکتوبر/نومبر 2005، ص 5، ضمیمہ دانش و ٹیکنالوجی۔
  • [19]. زوالت، اردشیر، ایضاً، ص 405 اور 406۔
  • [20]. اسدی، احمد، " دلاور مردانِ روز ہائے سخت"، تہران، ایرانِ سبز، 2015، ص 152-154 اور 159
  • [21]. زوالت، اردشیر، ایضاً، ص 406۔
  • [22]. ماہنامہ " صف"، شمارہ 354، مئی 2010، ص 34۔
  • [23]. زوالت، اردشیر، ایضاً، ص 619۔
  • [24]. ایضاً، ص 621۔
  • [25]. ایضاً، ص 254۔
  • [26]. ایضاً، ص 40۔
  • [27]. ایضاً، ص 254۔
  • [28]. ایضاً، ص 672۔

تکمیل، ترمیم یا غلطی کی اطلاع