محمد جواد باہنر
حجت الاسلام محمد جواد باہنر اسلامی جمہوریہ ایران کے تیسرے وزیر اعظم تھے، جنہیں 30 اگست 1981 کو منافقین نے شہید کر دیا تھا۔
محمد جواد باہنر مارچ 1934 میں کرمان میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد ایک سادہ پیشہ ور انسان تھے۔[1] پانچ سال کی عمر میں انہوں نے ایک مکتب میں لکھنا پڑھنا اور قرآن سیکھا۔[2] 1944 میں وہ کرمان کے معصومیہ مدرسہ چلے گئے اور اسکول کی تعلیم کے ساتھ ساتھ دینی علوم بھی حاصل کرنا شروع کیے۔[3] پھر 1953 میں وہ قم تشریف لے گئے اور ایک سال بعد ڈپلومہ کی سند حاصل کر کے تہران یونیورسٹی کی فیکلٹی آف تھیولوجی میں داخلہ لیا۔ یونیورسٹی میں تعلیم کے ساتھ ساتھ انہوں نے قم میں اپنی حوزوی (دینی) تعلیم بھی جاری رکھی اور 1958 میں بیچلرز کی ڈگری حاصل کی۔[4] 1957 میں انہوں نے حجت الاسلام اکبر ہاشمی رفسنجانی اور چند دیگر ساتھیوں کے ساتھ مل کر " مکتب تشیع" نامی جریدہ شائع کرنا شروع کیا؛ اس جریدے کا مقصد قم کے حوزہ علمیہ میں فکری و ثقافتی تبدیلی لانا تھا، تاہم طلباء اور علماء میں اس کی مقبولیت اور پہلوی حکومت کی حساسیت کے باعث 7 شماروں کی اشاعت کے بعد اس پر پابندی لگا دی گئی۔[5] ان سالوں کے دوران انہوں نے مختلف شہروں میں پہلوی حکومت کے خلاف تقاریر بھی کیں۔[6] 1962 میں وہ تہران منتقل ہوئے اور وہیں سکونت اختیار کر لی۔[7] 1963 میں انہوں نے تعلیمی امور میں ماسٹرز اور پھر الہیات میں پی ایچ ڈی کی ڈگری مکمل کی۔[8] جون 1963 سے پہلے وہ ہمدان تشریف لے گئے، جہاں ان کی تقاریر کی وجہ سے انہیں گرفتار کر لیا گیا، تاہم کچھ عرصہ بعد وہ رہا کر دیے گئے۔ جون 1963 (12 محرم) کے بعد، مطلوب ہونے کی وجہ سے وہ خفیہ طور پر تہران آ گئے اور 10 مارچ 1964 کو مدرسہ فیضیہ کے واقعے کی پہلی برسی کے موقع پر تہران کی جامع مسجد میں پہلوی حکومت کے خلاف سخت تقریر کی۔ اس کے بعد انہیں دوبارہ گرفتار کر کے چار ماہ قید کی سزا سنائی گئی اور قزل حصار نامی جیل منتقل کر دیا گیا۔[9]
شہید محمد جواد باہنر نے 1964 میں حجت الاسلام اکبر ہاشمی رفسنجانی کی تجویز پر اور محمد علی رجائی، ہیئتِ موتلفہ کے بعض ارکان اور کچھ دیندار تاجروں کی مدد سے " رفاہ و تعاون" نامی فلاحی ادارے کی بنیاد رکھی۔ یہ ادارہ پہلوی حکومت کے خلاف جدوجہد کرنے والی قوتوں کے خفیہ رابطوں کے لیے ایک سماجی اور خدماتی ڈھال تھا۔[10]
باہنر نے 1965 میں محترمہ زہرا عینکیان سے شادی کی، جس پر اللہ نے ان کو دو بیٹیوں اور دو بیٹوں سے نوازا۔[11] وہ 1968 میں وزارتِ تعلیم سے وابستہ ہوئے اور اسکولوں کے لیے دینی تعلیمات کی نصابی کتب کی تالیف و تدوین کی ذمہ داری سنبھالی۔[12] 1971 میں شاہی حکومت کے " 2500 سالہ جشن" کے خلاف تقریر کرنے کی وجہ سے ان پر تقریر کرنے پر پابندی لگا دی گئی۔
1973 میں " دفترِ نشرِ ثقافتِ اسلامی" (دفتر نشر فرهنگ اسلامی) کا قیام ان کے اہم ثقافتی اقدامات میں سے ایک ہے، جس کا مقصد اسلام اور اسلامی ثقافت کے موضوعات پر کتب شائع کرنا تھا۔[13] 1975 میں وزارتِ تعلیم کی طرف سے وہ اخلاقی و تعلیمی کانفرنس میں شرکت کے لیے جاپان گئے اور وہاں ایک ماہ قیام کیا۔[14]
سال 1977 میں تہران میں " جامعہ روحانیتِ مبارز" کے نام سے ایک تنظیم قائم ہوئی اور وہ اس جماعت کے مرکزی گروہ کا حصہ تھے۔[15]
دسمبر 1978 میں امام خمینی کے حکم پر " شورائے انقلاب" (انقلابی کونسل) کی تشکیل ہوئی تو انہوں نے اس میں بطور سیکرٹری خدمات انجام دیں اور " کمیٹی برائے ہڑتال" کے رکن بنے۔[16] یہ انقلابی کونسل کی ذیلی کمیٹیوں میں سے ایک تھی جس کی ذمہ داری پہلوی حکومت کے خلاف کی جانے والی ہڑتالوں کو منظم کرنا تھا۔
سال 1978 میں تیل کی صنعت کے کارکنوں کی ہڑتال کے دوران عوام کے لیے تیل کی فراہمی میں مشکلات پیدا ہوئیں، جس پر امام خمینی کے حکم سے ملک کے جنوبی حصوں میں ایک وفد بھیجا گیا، وہ اس وفد کے رکن تھے۔[17]
اسلامی انقلاب کی کامیابی کے بعد، انہوں نے انقلابی کونسل کے نمائندے کے طور پر وزارتِ تعلیم میں منصوبہ بندی، اساتذہ کی تربیت اور نصابی کتب کی اصلاح کے شعبوں میں کام کیا۔
انقلاب کی کامیابی کے ایک ہفتے بعد جب " حزبِ جمہوری اسلامی" (اسلامی جمہوریہ پارٹی) تشکیل پائی، تو وہ اس کے رکن بن گئے[18] اور جنوری 1980 میں " نہضتِ سواد آموزی" (خواندگی کی تحریک) کے قیام کے وقت[19] اس ادارے کی ذمہ داری سنبھالی۔[20] 1979 میں آئین کی حتمی منظوری کے لیے " مجلسِ خبرگان" بنی[21] تو وہ کرمان کے عوام کے نمائندے کے طور پر اس کونسل کے رکن منتخب ہوئے۔[22] سال 1980 میں وہ تہران کے عوام کی نمائندگی کرتے ہوئے پہلی " مجلسِ شورائے اسلامی" (پارلیمنٹ) کے رکن بنے اور پارلیمنٹ کی تعلیمی کمیٹی میں خدمات انجام دیں۔[23]
سال 1980 میں جب ملک مسلط کردہ جنگ (ایران عراق جنگ) کی لپیٹ میں تھا اور آبادان و خرم شہر کا محاصرہ جاری تھا، تو انہوں نے بنی صدر کی حکومت میں وزیرِ تعلیم کا عہدہ قبول کرنے سے انکار کر دیا،[24] تاہم دسمبر 1980 میں وہ محمد علی رجائی کی کابینہ میں وزیرِ تعلیم بنے۔[25] 28 جون 1981 کو حزبِ جمہوری اسلامی کے دفتر میں دھماکے اور آیت اللہ بہشتی کی شہادت کے بعد، باہنر پارٹی کے سیکرٹری جنرل بنے اور اپنی شہادت تک اسی عہدے پر فائز رہے۔[26] 5 اگست 1981 کو محمد علی رجائی کے دورِ صدارت میں انہیں وزیراعظم منتخب کر دیا گیا۔[27]
شہید باہنر ایران پر عراق کے حملے کو عراقی عوام میں اسلام پسندی کے فروغ سے پیدا ہونے والے خوف کا نتیجہ سمجھتے تھے۔[28] ان کا یہ بھی ماننا تھا کہ مسلط کردہ جنگ (ایران عراق جنگ) دراصل سامراج اور عراقی حکومت کے گٹھ جوڑ اور اندرونی سازشوں کا شاخسانہ ہے۔[29] جنگ کے تسلسل کے بارے میں انہوں نے کہا تھا: " ہمارا موقف قطعی طور پر جنگ جاری رکھنا ہے؛ مسلط کردہ صلح کی کوششیں قابلِ قبول نہیں ہیں اور ہماری کم از کم شرط یہ ہے کہ تمام سرحدوں سے دشمن کا مکمل انخلاء ہونا چاہیے۔"[30]
شہید محمد جواد باہنر 30 اگست 1981 کو (وزیراعظم بننے کے محض 28 دن بعد) 48 سال کی عمر میں وزیراعظم ہاؤس میں ہونے والے ایک بم دھماکے میں صدر محمد علی رجائی اور ملک کے دیگر اعلیٰ حکام کے ہمراہ شہید ہو گئے۔ دہشت گردی کی یہ کارروائی مجاہدینِ خلق نامی تنظیم نے انجام دی تھی۔[31] بم دھماکے اور صدر و وزیراعظم کی شہادت کی خبر پھیلتے ہی ایران کے مختلف شہروں میں عوام سڑکوں پر نکل آئے اور امریکہ کے خلاف نعرے لگائے۔[32]
31 اگست 1981 کو شہید محمد جواد باہنر کا جسدِ خاکی پارلیمنٹ ہاؤس کے سامنے لایا گیا جہاں آیت اللہ سید علی خامنہ ای، حجت الاسلام اکبر ہاشمی رفسنجانی اور بعض وزراء و نمائندوں کے خطابات کے بعد ان کی تشییع جنازہ ہوئی[33] اور انہیں تہران کے بہشتِ زہرا قبرستان میں " ہفتاد و دو تن" (72 شہداء) والے حصے میں سپردِ خاک کیا گیا۔[34] ملک بھر میں 4 ستمبر تک سرکاری سوگ کا اعلان کیا گیا۔[35] مختلف ممالک کے سربراہان نے اس بم دھماکے کی مذمت کی؛ مثال کے طور پر بھارت کا قومی پرچم سوگ میں سرنگوں رہا۔[36]
محمد علی رجائی اور محمد جواد باہنر کی شہادت کے بعد، ایران کے سرکاری کیلنڈر میں 30 اگست کو " دہشت گردی کے خلاف جدوجہد کا دن"[37] قرار دیا گیا اور ہر سال 24 اگست سے 30 اگست تک کے ایام کو " ہفتہ دولت" (حکومتی ہفتہ) کے طور پر منایا جاتا ہے۔[38]
کرمان یونیورسٹی کا نام تبدیل کر کے " شہید باہنر یونیورسٹی آف کرمان" رکھ دیا گیا[39] اور ستمبر 2001 میں " شہید باہنر میوزیم کرمان" کا افتتاح کیا گیا، جو ایک قدیم طرز کی عمارت میں واقع ہے اور وہاں ان کے ملبوسات، آثار، تحریریں اور کتابیں محفوظ کی گئی ہیں۔[40]
کتاب " گلستان در آتش" شہید باہنر کی زندگی پر مبنی ایک دستاویزی کہانی ہے[41] اور ان کی سوانح حیات پر مبنی ایک ڈرامہ سیریل " رازِ ناتمام" بھی بنایا گیا ہے۔[42] ان کی شائع شدہ تصانیف میں " دین شناسی تطبیقی" (تقابلِ ادیان)، " دین و دانش"، " شناختِ اسلام" اور " رابطہ علم و دین" شامل ہیں۔[43]
حوالہ جات
- [1]. ترکچی، فاطمہ، شہید حجت الاسلام والمسلمین ڈاکٹر محمد جواد باہنر بہ روایت اسناد، تہران، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، 2009، ص 17.
- [2]. ایضاً
- [3]. ایضاً، ص 18.
- [4]. ایضاً، ص 18 اور 19.
- [5]. ایضاً، ص 20، 21 اور 22.
- [6]. ایضاً، ص 42
- [7]. ایضاً، ص 30.
- [8]. ایضاً، ص 20.
- [9]. ایضاً، ص 58 اور 59؛ ویب سائٹ مرکز بررسی اسناد تاریخی، https://historydocuments.ir
- [10]. ترکچی، فاطمہ، ایضاً، ص 24.
- [11]. ایضاً، ص 20
- [12]. ایضاً، ص 84.
- [13]. ایضاً، ص 27 اور 58.
- [14]. ایضاً، ص 31.
- [15]. ایضاً، ص 61.
- [16]. ایضاً، ص 63-66.
- [17]. ایضاً، ص 29.
- [18]. ایضاً، ص 66-69
- [19]. اہوازی، عبدالرزاق، امام خمینی بہ روایت آیت اللہ ہاشمی رفسنجانی، تہران، عروج، 2006، ص 193.
- [20]. ترکچی، فاطمہ، ایضاً، ص 70.
- [21]. اہوازی، عبدالرزاق، ایضاً، ص 108 اور 109.
- [22]. ترکچی، فاطمہ، ایضاً، ص 70.
- [23]. ایضاً، ص 70 اور 71.
- [24]. بختیاری دانشور، داود، آن سوئے شب، تہران، شاہد، دوسرا ایڈیشن، 2007، ص 75.
- [25]. ایضاً، ص 73-74.
- [26]. ایضاً، ص 69.
- [27]. ایضاً، ص 75-76.
- [28]. نعمتی زرگران، مرتضی، شہید ڈاکٹر محمد جواد باہنر: جدوجہد، موقف اور خیالات، موسمِ بہار 2005، مرکز اسناد انقلاب اسلامی، ص 261.
- [29]. ایضاً، ص 263.
- [30]. ایضاً، ص 264.
- [31]. ہاشمی، یاسر، عبور از بحران، کارنامہ و خاطرات 1981 (ہاشمی رفسنجانی)، تہران، دفتر نشر معارف انقلاب، ص 259.
- [32]. روزنامہ اطلاعات، شمارہ 16514، ص 1، پیر، 31 اگست 1981.
- [33]. ہاشمی، یاسر، ایضاً، ص 263.
- [34]. روزنامہ اطلاعات، شمارہ 16515، ص 2، منگل، 1 ستمبر 1981.
- [35]. ہاشمی، یاسر، ایضاً، ص 265.
- [36]. روزنامہ اطلاعات، شمارہ 16515، پہلا صفحہ، ستمبر 1981.
- [37]. روزنامہ جام جم، جمعرات 1 ستمبر 2022، شمارہ 6298، ص 2.
- [38]. ماہنامہ شاہد یاران، " یادمان شہید ڈاکٹر محمد جواد باہنر"، شمارہ 111، ص 24.
- [39]. خبرنامہ دانشجویانِ ایران، شمارہ 400259.
- [40]. ماہنامہ شاہد یاران، شمارہ 111، جنوری 2015، ص 86.
- [41]. حسن بیگی، ابراہیم، گلستان در آتش، تہران، سورہ مہر، 2009.
- [42]. روزنامہ جام جم، شمارہ 6136، ص 6.
- [43]. ترکچی، فاطمہ، ایضاً، ص 36.