آخری مہلت

فیچرفلم " آخری مہلت" 1989 میں   پرویز تائیدی کے ڈائریکشن میں بنائی گئی اور اس کا موضوع عراق کا ایک ایرانی گاؤں پر قبضے کے لیے حملہ کرنا ہے۔

اس فلم کےڈائریکٹر پرویز تائیدی، اسسٹنٹ ڈائریکٹر بہرام علیان، محمد مشکاتی اور مسعود فلاح، سکرین رائٹر اکبر خواجوی، سکرپٹ کی آخری تیاری پرویز تائیدی، ڈائریکٹر آف فوٹوگرافی فرج حیدری، اسسٹنٹ کیمرہ مین نظام کشفی، اسکرپٹ سپروائزر مسعود فلاح، سپیشل ایفیکٹس محمد مکاریان اور رضا رستگار، ایڈیٹر ایرج گل افشان، بیک گراؤنڈ میوزک محمد رضا علیقلی، فوٹوگرافر محمد بانکی، ہارس رائڈر سپروائزر ابراہیم موسوی، کاسٹیوم ڈیزائنر توران قادری، پروڈکشن مینیجر غلامعلی قنبری، پروڈیوسر محمد بانکی اور اصغر بانکی ہیں اور اداکاروں میں افسانہ بایگان، رضا رویگری،   توران قادری،   عطاء اللہ زاہد، پرویز شکری،   حسین صفاریان،   محمد گیلانی، قدرت قربانی،   ابوالفضل مرزائی، عرب خالدی،   کریم نشاط،   محمد ایمانی،   محمد جوہری اوردیگران شامل ہیں۔

فلم " آخری مہلت" ایک ایڈونچر نوعیت کی فلم ہے جس کی مدت 94 منٹ ہے اور یہ سپاہان سینما آرگنائزیشن کی پروڈکشن ہے جو 15 اپریل 1990 کو عوامی نمائش کے لیے پیش کی گئی اور اس نے 94,690,190 ریال کی فروخت حاصل کی۔⁠[1]

عراق کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز کے ساتھ ہی دشمن کے کچھ فوجی ایک ایرانی گاؤں کے باشندوں کا مورال کو کمزور کر کے انہیں ہجرت پر مجبور کرنا چاہتے ہیں تاکہ گاؤں پر قبضہ کر سکیں۔ عراقی فوجیں احمد صالح نامی ایک مقامی زمیندار کی مدد سے گھناونی سازش تیار کر رہی ہیں، لیکن اس کی سوتیلی بیٹی لیلٰی لوگوں کو آگاہ کر کے دشمن کی اس سازش کو بے نقاب کر دیتی ہے۔ آخر کار گاؤں والے احمد صالح کے اسلحہ گودام میں گھس کر اس کے کارندوں کا مقابلہ کرتے ہیں اور انہیں ہلاک کر دیتے ہیں۔ گاؤں والے دشمن کے حملے کا مقابلہ کرتے ہوئے مزاحمت کرتے ہیں۔⁠[2]

فلم " آخری مہلت" پرویز تائیدی کی باقاعدہ طور پر پہلی فیچر فلم ہے جو بعض تجزیہ کاروں کے نزدیک ایک کمزور اور ابتدائی فلم ہے۔ ان تجزیہ کاروں کے مطابق اس فلم کا سکرین پلے خیالی ہے اور یہ اس حقیقت کو ظاہر کرتا ہے کہ اس کا بنانے والا جنگ اور خوزستان کے عوام سے واقف نہیں ہے۔ اس فلم کے اداکاروں میں مقامی اور دیہی لہجہ نہیں ہے اور وہ بالکل شہری انداز میں بولتے ہیں جو ان کے کرداروں کے مطابق نہیں ہے۔ فلم کے کردار اسی نوعیت کی کئی فلموں (جیسےجمشید حیدری کی فلم " مرز") کی ناقص تقلید پر ہیں۔ فلم بظاہر باکس آفس میں فروخت کے لیے ایونٹس پیدا کرنے پر زور دیتی ہے۔⁠[3]

کچھ ناقدین کا خیال ہے کہ اس فلم نے ایک تکراری موضوع کو کمزور اندازمیں پیش   کیاہے۔ اس فلم کا مثبت پہلو ایک عورت کا دفاع مقدس کے منظر نامے پر فیصلہ کن کردار میں ظہور ہے لیکن یہ ظہور بھی سطحی اداکاری کے باعث ضائع ہو گیا ہے۔ اداکاروں کی کمزور ایکٹنگ اور کرداروں کے عدم حسن   کردگی کی وجہ سے یہ فلم ڈائریکٹر کے ریکارڈ میں کوئی خاص توجہ درج نہیں کر پائی۔⁠[4]

کچھ ناقدین   اس فلم کو ایڈونچر اورکاروباری سمجھتے ہیں لیکن یہ فلم در اصل اس حد تک بھی کامیاب نہیں ہو   سکی؛ فلم میں وہ منطق اور اصول نظر ہی نہیں آتے جو ایڈونچر فلموں میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ واقعات میں وقت اور جگہ   کے لحاظ سے توازن نہیں ہے اور ان کی پیش کئے جانے کے انداز میں بھی خامیاں ہیں۔ مثال کے طور پر جب احمد صالح ایک خفیہ معاملے پر وائرلیس کے ذریعے بات کر رہا ہوتا ہے، نہ صرف وہ حساس گفتگو کے بنیادی اصولوں کی پابندی نہیں کرتا بلکہ بلند آواز میں چلاتا ہے، ان سادہ سی باتوں کی عدم پابندی فلم کو نا مطلوب اور کمزور بنا دیتی ہے۔ ایک اور جگہ پر احمد صالح اپنے ہرکاروں کو بھیجتا ہے تاکہ گاؤں والوں کو ماریں پیٹیں لیکن حیرت کی بات ہے کہ اس کے ہرکارے صرف گاؤں میں گھومتے ہیں اور صرف مٹی کے برتنوں پر فائرنگ کرتے ہیں۔ یہ غیر منطقی انداز فلم کے اختتام پر اپنے عروج پر پہنچ جاتا ہے؛ جہاں احمد صالح کے کارندے لیلٰی کی شادی کی صبح گاؤں پر حملہ کرتے ہیں لیکن اسی رات گاؤں والے بنا کسی پریشانی کے شادی کی تقریب منعقد کرتے ہیں۔ احمد صالح شادی کو ماتم میں بدلنے کا وعدہ کرتا ہے لیکن پھر   ایسا کچھ ہوتا نہیں ۔ وہ کہتا ہے کہ گاؤں والوں کا قتل عام کرے گا لیکن فلم کے آخری لمحات تک گاؤں کا صرف ایک شخص مارا جاتا ہے اور اس کے بدلے میں اس کا پورا گروہ تباہ ہو جاتا ہے۔ احمد صالح کے کارندوں اور گاؤں والوں کے درمیان جنگ کے مقابلے کے مناظر، جو فلم کا اختتامیہ ہونا چاہیے، بالکل ابتدائی ہیں اور زیادہ سے زیادہ ایک مذاق لگتے ہیں نہ کہ سنجیدہ جنگ۔

ناقدین کے مطابق اس فلم میں جو چیز توجہ کی طالب ہے وہ ہے ہندی فلموں سے اس کی مشابہت؛ گاؤں کا ماحول، اس کے لوگ، بازار اور گلیاں اور قہوہ خانہ، کپڑے اور لوگوں کے درمیان ارتباط اور اداکارہ کے لیے بناوٹی طور پر ہیرو بنانے کا انداز، یہ سب تجارتی ہندوستانی فلموں سے نقل کیا گیا ہے اور ڈائریکٹر نے ان مناظر کو ایران کے ماحول کے مطابق ڈھالنے کے لیے زیادہ کوشش نہیں کی۔ ان کمزوریوں کی وجہ اس نوجوان ڈائریکٹر کا کم تجربہ کار ہونا بتایا گیا ہے۔⁠[5]

 

 


حوالہ جات

  • [1]. سالنامہ آماری فروش فیلم و سینمای ایران 1991، خزاں 2016، صفحہ 7
  • [2]. بہارلو، عباس، فلم شناخت ایران (فیلم شناسی سینمای ایران 1979-1993)، تہران، قطرہ، 2004، صفحہ 189 اور 190
  • [3]. مجلہ اطلاعات ہفتگی، شمارہ 2471، 28 فروری 1990، صفحہ 57
  • [4]. ماہنامہ جانباز، شمارہ 2، فروری 1990، صفحہ 40
  • [5]. ماہنامہ سینمائی فلم، شمارہ 90، سال ہشتم، جون 1990، صفحہ 46

تکمیل، ترمیم یا غلطی کی اطلاع