الامیہ لنگر گاہ

" الامیہ " لنگرگاہ ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ کے آغاز سے قبل عراق میں تیل برآمد کرنے والے اہم ترین ٹرمینلز میں سے ایک تھی۔ ایرانی فوجی دستوں نے 1980 میں اس لنگرگاہ کو بڑے پیمانے پر نقصان پہنچایا اور 1986 میں آپریشن کربلا 3 کے دوران اس پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہوگئے۔

" الامیہ " لنگرگاہ عراق میں خلیج فارس کے شمالی حصے میں، " راس البیشہ" کے جنوب مشرق میں، البکر لنگرگاہ سے گیارہ کلومیٹر کے فاصلے پر بنایا گیا تھا۔ ایران کے خلاف مسلط کردہ جنگ سے پہلے عراق اپنا زیادہ تر تیل اسی لنگرگاہ سے برآمد کرتا تھا۔ جنگ کے دوران، تیل برآمد کرنے کے علاوہ، یہ عراقی فوجی کشتیوں   کے لیے ایک مضبوط گڑھ اور مورچہ تھا۔ ایران نے اس لنگرگاہ کو تباہ کرنے کے لیے کئی آپریشن کیے جن میں سب سے اہم آپریشن " مروارید"   دسمبر 1980 میں اور آپریشن کربلا 3 ستمبر 1986 میں تھا۔

الامیہ لنگرگاہ کے شمالی جانب ایرانی ساحل واقع ہے اور مغربی جانب جزیرہ فاو، خور عبداللہ اور بوبیان جزیرہ واقع ہے۔ ان تینوں مقامات اور ایران میں دریائے قاسمیہ کے مقام کے درمیان تقریباً تیس کلومیٹر کا فاصلہ ہے۔ یہ لنگرگاہ خلیج فارس کے ساتھ دریائے اروند اور خور عبد اللہ ندیوں کے سنگم پر واقع ہے۔ لنگرگاہ کے ارد گرد پانی کی گہرائی مد کے وقت 32 میٹر اور جزر کے وقت 30 سے 31 میٹر ہوتی ہے۔

الامیہ لنگرگاہ دریائے اروند کے قریب واقع ہے۔ اس لنگرگاہ میں چار کارگو   آرمز ہیں جو پانچ لاکھ ٹن تک کی گنجائش والے ٹینکر بردار بحری جہاز کو لنگر انداز کر سکتے ہیں۔ آئل ٹرمینل کی لمبائی تقریباً 961 میٹر ہے، اور کنٹرول سیکشن میں عمارت کی زیادہ سے زیادہ چوڑائی تقریباً 105 میٹر ہے، اور راہداریوں میں کم از کم چوڑائی ڈیڑھ میٹر ہے۔ پانی کی سطح سے لنگرگاہ کی اونچائی جزر کے وقت تقریباً نو سے دس میٹر اور مکمل مد کے وقت پانچ سے چھ میٹر ہوتی ہے۔⁠[1]

جنگ سے پہلے یہ لنگرگاہ عراقی تیل کی برآمد کے اہم مراکز میں سے ایک تھی۔ اس لنگرگاہ کے مخصوص جغرافیائی محل وقوع اور اس کے ارد گرد پانی کی گہرائی کی وجہ سے عراق کا ایک تہائی تیل اسی علاقے سے برآمد ہوتا تھا۔ اس لنگرگاہ   سے تین لاکھ ٹن سے زیادہ وزن والے بحری جہاز وں تیل بھرا جاتا تھا۔ اس کے علاوہ چونکہ یہ لنگرگاہ ام القصر اور بصرہ کی بندرگاہ کے راستے میں واقع تھی، اس لیے عراقی تجارتی بحری جہاز اس کے ساتھ لنگر انداز ہوتے تھے اور لوڈ یاان لوڈ   کا وقت آنے پر   متعلقہ بندرگاہوں کی طرف روانہ ہوتے تھے۔⁠[2]

لنگرگاہ کی اقتصادی خصوصیات سے قطع نظر، اس کے حکمت عملی کے پہلو بھی اہم تھے۔ اس لنگرگاہ اور البکر لنگرگاہ کو خلیج فارس کے شمالی پانیوں میں دو اچھی طرح سے لیس بحری فوجی اڈوں میں تبدیل کر کے عراق اپنے لیے بحری برتری حاصل کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ یہ دیکھتے ہوئے کہ عراق کی پوزیشن قدرتی اور مصنوعی رکاوٹوں سے پاک سمندری علاقے میں تھی، اس کا اثر اس کی حکمت عملیوں پر پڑ سکتا تھا، کیونکہ پورے علاقے میں رکاوٹوں کی کمی، خاص طور صاف موسم میں، راڈار کے آلات اور فورسز کے لیے موثر فائرنگ کے لیے مفید دید اور اپروچ فراہم کرتا تھا۔ اس صورت میں ایرانی جہازوں کی نقل و حرکت کا پتہ لگانے کے لیے ریڈارز کی رینج میں مزید اضافہ کیا جاتا اور عراق کسی بھی نقل و حرکت کے خلاف فوری کارروائی کر سکتا ہے۔ عراق کو ایک اور فائدہ پلیٹ فارمز کے لیے فضائی مدد فراہم کرنے کی آسانی تھی۔ اس سے عراق کو خلیج فارس کے شمالی ساحل پر ایرانی افواج کی فائرنگ رینج سے تحفظ ملتا تھا   اور کویت کے ساحلی پانیوں کے استعمال سے عراقی جہازوں اور طیاروں کی ٹرمینلز کو اوجھل رکھنے میں بھی مفید تھا۔⁠[3]

جنگ سے پہلے، عراق نے ان لنگر گاہوں کو محفوظ بنایاکیونکہ اس کی معیشت کے لیے ان کی اہمیت ریڑھ کی ہڈی کی مانند تھی ۔ مسلط کردہ جنگ کے شروع میں   ہی، عراق نے اسلامی جمہوریہ ایران کے بحری اہداف پر حملہ کرنے اور تجارتی جہازوں کی آمدورفت میں عدم تحفظ پیدا کرنے کے لیے لنگر ھاہوں پر موجود طاقتور ریڈاروں کا استعمال کیا۔ یہاں تک کہ شمالی خلیج فارس اور اسلامی جمہوریہ ایران کی بندرگاہوں میں زیادہ تر سمندری آمدورفت انہی   طاقتور ریڈاروں کے ذریعے کنٹرول کی جاتی تھی۔

جنگ شروع ہونے کے ساتھ ہی عراق نے ان لنگر گاہوں کی حفاظت کے لیے بڑی تعداد میں طیارہ شکن گنیں تعینات کیں۔⁠[4] بہت سی رکاوٹوں کے باوجود، ان پلیٹ فارمز پر قبضہ کرنا ایران کے لیے بہت   اہمیت کا حامل تھا اور یہ خلیج فارس پر ایران کے تسلط کا سبب تھا⁠[5]۔ جنگ کے آغاز سے ہی ان لنگر گاہوں پر حملہ کرنا اسلامی جمہوریہ ایران کا ایک اہم ہدف تھا۔ دو آپریشن اشکان (1 نومبر 1980) اور شہید صفری (4نومبر 1980) کے بعد، جو ان لنگر گاہوں کو مکمل طور پر تباہ   نہ   کر سکے، اسلامی جمہوریہ ایران کی بحریہ اور فضائیہ نے دسمبر 1980 میں آپریشن " مروارید" میں ان دونوں لنگر گاہوں کو مکمل طور پر تباہ کرنے میں کامیابی حاصل کی، جس سے عراق کو بڑا نقصان پہنچا⁠[6]۔ ان دو آئل ٹرمینلز کی تعمیر نو کے بعد عراق نے خلیج فارس اور دریائے اروند   کے پانیوں اور ایرانی جنگجوؤں کی نقل و حرکت کو مزید فوجیوں اور ہتھیاروں کی تعیناتی کے ذریعے کنٹرول کرنے کے لیے ایک مضبوط اور اسلحہ سے لیس قلعہ قائم کیا۔ ان لنگر گاہوں کی فوجی امداد اور ایران کے لیے خطے کے عدم تحفظ کے بعد، ایرانی فوجی کمانڈروں کی حساسیت میں اضافہ ہوا   اور انہیں تباہ کرنے کا عزم دو برابر ہو گیا،   اس لیے مذکورہ علاقے پہلے سے زیادہ پراکندہ ایرانی فائرنگ   کا نشانہ بنے۔ 1983 کے موسم خزاں تک، خیبر آپریشن کے ساتھ ساتھ کربلا 3 کے آپریشنل علاقے میں ایک فریب کاری کے منصوبہ بنایا گیا، لیکن اس وقت سپاہ پاسداران کی بحری یونٹ کی تشکیل نو اور دیگر فوجی دستوں کے ساتھ ہم آہنگی کے فقدان کی وجہ سے، یہ آپریشن نہیں کیا جا سکا۔⁠[7]

آپریشن والفجر 8 میں ایرانی جنگجوؤں کی فتح اور جزیرہ نمادریاے فاو کی اسٹریٹیجک   آزادی کے بعد، الامیہ اور البکر کی دو لنگر گاہوں کی حفاظت کے لیے عراقی   کوششوں میں اضافہ ہوا۔ چونکہ عراقی بحریہ کے جہاز اور کشتیاں ایرانی افواج کی فائرنگ کی زد میں تھے، اس لیے ان کی آمدورفت میں کمی آئی اور عراقی بحریہ اپنی استعداد اور طاقت کافی حد تک کھو چکی تھی۔ تاہم، چونکہ بندرگاہیں ابھی تک عراقیوں کے ہاتھ میں تھیں، اس لیے انہوں نے طاقتور انٹیلی جینس ریڈاروں کا استعمال کرتے ہوئے خلیج فارس کے بیشتر علاقوں میں تمام تجارتی اور جنگی جہازوں کی ٹریفک کو کنٹرول کیا،   اس لیے ان دونوں اڈوں پر قبضہ اب بھی اسلامی جمہوریہ ایران کا ہدف تھا۔⁠[8]

11 جولائی 1986 کو آرمی نیوی نے الامیہ لنگر گاہ پر قبضہ کرنے کی کوشش کی۔ اس فورس کو فضائیہ اور کمانڈوز کو لے جانے والی آٹھ جنگی کشتیوں کی مدد سے بندرگاہ پر حملہ کرنا تھا۔ تاہم فوجی دستے بندرگاہ تک پہنچنے میں ناکام رہے اور منصوبہ ناکام ہو گیا۔

عراق کی جانب سے بحری آئل ٹینکر جنگ میں توسیع کے بعد، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی نے فیصلہ کیا کہ عراق کو البکر اور الامیہ لنگر گاہوں کی تیل کی سہولیات سے محروم کرنے کے لیے ایک بڑا قدم اٹھایا جائے⁠[9]۔   آپریشن، جسے آپریشن کربلا 3 کہا جاتا تھا، کو حتمی شکل دینے کے بعد، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے کمانڈر انچیف محسن رضائی نے یہ مشن   نوح نیول بیس کو سونپا۔ سپاہ پاسداران بحریہ کے کمانڈر، حسین علائی کی درخواست پر، آپریشن کربلا 3 کو انجام دینے کا مشن   حسین خرازی کو سونپا گیا جو بریگیڈ امام حسین کے لشکر14 کے کمانڈرتھے۔ یہ یونٹ جو آپریشن کا مرکزی یونٹ تھا، کوثر اور امیر المومنین (ع) بریگیڈ کے دو جہازوں کے ساتھ آپریشن کے لیے تیار ہوئی تھی⁠[10]۔

اگست 1986 کے آغاز سے، ڈویژن نے آپریشنل ایریا کی شناخت، ٹیکٹیکل ہیڈکوارٹر کی تیاری، علاقے میں نقل و حمل کا سامان، ایک سڑک اورلنگر گاہ کی تعمیر، توپ خانے کی پوزیشنیں قائم کرنے، اور کمانڈ پوسٹ کی تیاری کے لیے ضروری اقدامات شروع کیے، اور اسے اگست 1986کے آخر تک مکمل کیا⁠[11]۔

 

2 ستمبر 1986 کو آپریشن کا آغاز رات ڈیڑھ بجے کیا گیا جس کا کوڈ نام " حسبنا اللہ و النعم الوکیل" تھا۔ آئی آر جی سی   (سپاہ پاسداران) نیوی نے امام حسین ڈویژن کے 120 غوطہ خوروں کی مدد سے منصوبہ بندی کے مطابق الامیہ لنگر گاہ پر حملہ کرنے اور اس پر قبضہ کرنے میں کامیابی حاصل کی۔ سپاہیوں نے الامیہ لنگر گاہ   سے عراقی فوجی سازوسامان اکٹھا کیا، تیل کے ٹرمینل کو خالی کیا اور اپنی پوزیشنوں پر واپس آگئے اور اس کے علاوہ   آئی آر جی سی نے آبراہ     خورعبداللہ میں بارودی سرنگیں بھی بچھائیں۔

الامیہ لنگر گاہ  پر قبضہ کرتے ہی ایک اور آپریشن " نار الرحمہ" کیا گیا اور فاو کے   ٹینکوں سے تیل نکال کر البکر لنگر گاہ کو بھی آگ لگا دی گئی۔ اس آپریشن کے ڈیزائنر اور ایگزیکیوٹر جمشید سرداری تھے جو نوح کیمپ کے رکن تھے۔ ان دونوں کارروائیوں کا امتزاج، جو آپریشن کربلا 3 کے نام سے کیا گیا، شمالی خلیج فارس کے علاقے کو کنٹرول کرنے میں عراقیوں کی صلاحیت کو کم کرنے اور آئل ٹینکروں اور تجارتی جہازوں پر عراقی فوج کے حملوں کا مقابلہ کرنے کے لیے کیا گیا۔

اس آپریشن میں فوج کی فضائیہ اور بحریہ نے حصہ نہیں لیا۔ چونکہ یہ علاقہ فضایئ تحفظ سے لیس   نہیں تھا، اس لیے عراقی طیارے آسانی سے الامیہ لنگر گاہ  تک پہنچنے اور اس پر بمباری کرنے کے قابل تھے⁠[12]۔

آپریشن ختم ہونے کے بعد، گشتی- جنگی دستوں نے   دریاے اروند  کے علاقے میں اپنی سرگرمی جاری رکھی اور دریائےاروند   کے دہانے کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ انہوں نے دریاےاروند   کے دہانے پر خلیج فارس کے شمالی کنارے کو بھی کور کر لیا۔ نوح کیمپ کو " بویہ 8" میں مستقل اڈہ قائم کرنے کا مشن سونپا گیا تھا۔ سپاہ پاسدارن بحریہ بھی فاو   کے شمال اور جنوب میں موجود تھی⁠[13]۔

آپریشن کربلا 3 اس وقت کیا گیا جب اس وقت کے صدر آیت اللہ سید علی خامنہ ای غیروابستہ تحریک کے سربراہی اجلاس میں شرکت کے لیے زمبابوے میں تھے۔ اس سفر سے واپس آنے کے بعد، انہوں نے پاسداران انقلاب بحریہ کے کمانڈر حسین علائی سے سربراہی اجلاس پر آپریشن کے مثبت اثرات اور الامیہ لنگرگاہ پر قبضے کی وجہ سے سربراہی اجلاس میں ایران کے وقار اور مقام میں اضافے کے بارے میں بات کی⁠[14]۔

 

 

 

 


حوالہ جات

  • [1]. اسحاقی، سیدمحمد، نخعی، هادی، نبرد العمیه، تهران: سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ، 1375، ص21.
  • [2]. جنگ در سال 65: سپاه کی ایک سالہ رپورٹ، تهران: سپاه پاسداران انقلاب اسلامی، مرکز مطالعات و تحقیقات جنگ، 1367، ص146.
  • [3]. اسحاقی، سیدمحمد، نخعی، هادی، نبرد العمیه، ص24.
  • [4]. سابق، ص31.
  • [5]. جنگ در سال 65: سپاه کی ایک سالہ رپورٹ، ص147.
  • [6]. اسحاقی، سیدمحمد، نخعی، هادی، نبرد العمیه، ص31؛ طاهری، شهاب‌ الدین، معصومی، سیدامیر، مروارید: روایتی از حماسه ناوچه پیکان، تهران: معاونت تبلیغات و روابط عمومی سازمان عقیدتی سیاسی ارتش جمهوری اسلامی ایران، دفتر سیاسی، آرشیو تاریخ جنگ‌، 1373، ص70 و 71.
  • [7]. اسحاقی، سیدمحمد، نخعی، هادی، نبرد العمیه، ص31.
  • [8]. سابق، ص32 و 33.
  • [9]. علایی، حسین، تاریخ تحلیلی جنگ ایران و عراق، ج2، تهران: مرز و بوم، 1395، ص255 و 256.
  • [10]. سحاقی، سیدمحمد، نخعی، هادی، نبرد العمیه، ص41 و 44.
  • [11]. سابق، ص44 و 45.
  • [12]. علایی، حسین، تاریخ تحلیلی جنگ ایران و عراق، ج2، ص256 و 257؛ سمیعی، علی، کارنامه توصیفی عملیات‌ های رزمندگان اسلام در طول هشت سال دفاع مقدس، تهران: نمایندگی ولی فقیه در نیروی زمینی، معاونت تبلیغات و انتشارات، مدیریت نشر، 1376، ص258.
  • [13]. اسحاقی، سیدمحمد، نخعی، هادی، نبرد العمیه، ص23 و 194. " بویه " ایک تیرنے والی چیز ہے اور اسے لنگر کے ذریعے کنٹرول کیا جاتا ہے ۔ اس کے اوپر دریایی لایٹ نصب کی جاتی ہے جس کی مدد سے جہاز اور کشتیاں کم گہرے پانی کی جانب نہیں جاتیں اور صحیح راستے پررہتی ہیں۔
  • [14]. علایی، حسین، تاریخ تحلیلی جنگ ایران و عراق، ج2، ص257.

تکمیل، ترمیم یا غلطی کی اطلاع