ایران کی کمیونسٹ یونین

ایران کی ماؤ نواز تنظیم " اتحادیہ کمونیست‌ ہائے ایران" 1976 کے اواخر میں دو گروہوں " سازمان انقلابیون کمونیست" اور فلسطینی گروہ " پویا" کے اتحاد سے وجود میں آئی۔

" سازمان انقلابیون کمیونیسٹ" (ساک) کو 1969 میں امریکہ کی ریاست کیلیفورنیا کی برکلے یونیورسٹی میں زیرِ تعلیم ایرانی طلبہ کے ایک گروہ نے قائم کیا تھا۔ یہ گروہ پہلوی حکومت کے خلاف مسلح جدوجہد کا مخالف تھا اور مزدور طبقے میں پروپیگنڈے اور تبلیغ پر زور دیتا تھا اور مائو کے افکار کی پیروی کرتا تھا۔

گروہِ فلسطینی پویا بھی " گروہِ فلسطین" کے بچ جانے والے ارکان سے پیدا ہوا تھا جو پہلوی حکومت کے جبر و ستم کی پالیسی میں شدت کی وجہ سے اور گوریلا و چھاپہ مار جنگ کی تربیت حاصل کرنے کی غرض سے 1969 اور 1970 میں عراق اور لبنان چلے گئے تھے۔ یہ گروہ مسلح اور گوریلا طریقہ کار پر یقین رکھتا تھا اور انقلابیون کمونیست کی طرح مائو کے نظریات کا پیروکار تھا۔

  استعمار اور پہلوی آمریت کے خلاف جدوجہد جیسے مشترکہ اہداف نے ان دونوں تنظیموں کو قریب کیا اور بالآخر ایران کی کمیونسٹ یونین کی تشکیل پر منتج ہوا۔ یہ یونین " حقیقت" اور " کمونیست" کے نام سے دو جریدے شائع کرتی تھی۔

ایران کی کمیونسٹ یونین نے انقلابِ اسلامی کی کامیابی سے پہلے امام خمینی کی جدوجہد کو سراہا اور 1979 میں عوامی جدوجہد کے عروج کے وقت انقلاب کے نعروں کی حمایت کی، لیکن چونکہ ایران میں ان کی کوئی عوامی بنیاد نہیں تھی، اس لیے انقلاب کے واقعات میں ان کا کوئی براہِ راست کردار نہیں تھا۔

انقلاب کی کامیابی کے آغاز اور کردستان میں مخالفین کی تحریکوں کے شروع ہونے پر، اس یونین نے اعلان کیا کہ وہ کردستان میں علیحدگی پسند گروہوں سے مقابلے کے لیے " تشکیلات پیشمرگہ زحمتکشان کردستان" یعنی " جان بکفان کردستان کمیٹی" قائم کر رہی ہے۔ ساتھ ہی اس نے " جمعیت زنان مبارز" یعنی " مزاحمتی خواتین گروپ" اور طلبہ و طالبات کی تنظیم " ستاد" جیسے ذیلی ادارے بنا کر اپنی آرگنائزیشن کو وسعت دی۔

عراق کی طرف سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کے آغاز پر، اس یونین نے اس جنگ کو جارحانہ قرار دیا اور باقاعدہ اعلان کیا کہ عراق کی جارحیت کے خلاف قدم اٹھانا چاہیے۔ اس نے جنگ کو امپریالیزم خصوصاً امریکہ کی سازشوں کا ایک پہلو اور " نوژہ نقاب نامی سازش" اور " واقعہ طبس" جیسے اقدامات کو انقلابِ ایران کی تباہی اور عوامی جدوجہد کے ثمرات کو ختم کرنے اور ایران کی آزادی و استقلال کو مٹانے کا منصوبہ قرار دیا۔ اس نے جنگ کا مقابلہ کرنے کو ایک قومی اور ضدِ امپریالیست فریضہ قرار دیا اور بیانات کے ذریعے دفاعِ وطن اور بعثی حملہ آوروں کے خلاف جنگ میں شرکت کے لیے اپنی مکمل آمادگی ظاہر کی۔ اس نے تمام عوام اور قوتوں سے، چاہے ان کا نظریہ کچھ بھی ہو، متحد اور مسلح ہو کر عراقی فوج کو ملک سے نکالنے تک نبرد آزما رہنے کا مطالبہ کیا۔ اسی بنیاد پر اس نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 479 کی مذمت کی اور صلح کے بجائے جنگ جاری رکھنے پر زور دیا۔

اس یونین کی نظر میں جنگ میں ایران کی فتح، امپریالیزم کی شکست اور ایرانی قوم کے عوامی و ضدِ امپریالیست انقلاب کی ترقی کی جانب ایک بڑا قدم تھا؛ ایسی فتح جو ان کے خیال میں صرف جنگ کے عوامی ہونے کی صورت میں ہی ممکن تھی۔ اسی نقطہ نظر کے تحت، یونین نے کردستان میں اپنی سرگرمیاں روک دیں اور اپنے مسلح ارکان (پیشمرگہ) سے مطالبہ کیا کہ کردستان کی جنگ فوری بند کر کے تمام وسائل جنگ کے لیے وقف کر دیے جائیں۔ اس کے بعد یونین کے ارکان کا ایک گروہ " داس" نامی تنظیم کی شکل میں جنوبی محاذ پر بھیجا گیا جہاں ان کے 10 یا 11 افراد، بشمول مرکزی سٹاف کے رکن ابوالقاسم صراف‌ زادہ، جاں بحق ہوئے۔ البتہ ایسے شواہد بھی موجود ہیں جو ثابت کرتے ہیں کہ اس یونین کے ارکان نے محاذِ جنگ سے بڑی مقدار میں اسلحہ اور گولہ بارود چوری کر کے آغاجاری میں یونین کے دفتر منتقل کیا۔

اس وقت کے صدر ابوالحسن بنی صدر اور نظام کے درمیان اختلافات بڑھنے پر، یونین نے تمام کمیونسٹوں سے اپیل کی کہ وہ " صدر کے خلاف حزبِ جمہوری اسلامی کی بغاوت" کے مقابلے میں متحد ہو جائیں۔ بنی صدر کی برطرفی اور ملک سے فرار کے بعد، یونین نے اعلان کیا کہ ملک میں بغاوت ہو چکی ہے جس نے انقلاب اور جنگ کے مستقبل کو خطرے میں ڈال دیا ہے، لہٰذا اب انقلاب کی نجات کے لیے مسلح قیام کرنا ہوگا۔ اس مقصد کے لیے قیادت کی مستقل کمیٹی بنی اور جون 1981 کے اواخر میں " حوزہ" نامی منصوبے کو " داس" کی جگہ لایا گیا اور اپنے ارکان کو خوزستان سے تہران بلا لیا گیا اور ساتھ ہی ان کے سپاہی شمالی ایران کے جنگلوں میں مستقر ہو گئے۔ یونین نے اپنا ہدف یہ قرار دیا کہ جنگلوں میں ایک باقاعدہ فوج بنا کر " تیسرا محاذ" کھولا جائے تاکہ علاقوں کو آزاد کرا کے اسے پورے ملک تک پھیلایا جائے اور مزدور طبقے اور عوام کے ذریعے نظام کا خاتمہ کیا جائے۔ اس دور میں ان کے جریدے " حقیقت" میں جنگ کی خبریں بہت کم ہو گئیں اور یونین نے موقف اپنایا کہ جنگ اب حکومت کے لیے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کا بہانہ بن چکی ہے اور فتح کا واحد راستہ نظام کی سرنگونی ہے۔

27 ستمبر 1981 کو فوجیوں نے ثامن الائمہ (ع) آپریشن کیا اور آبادان کا محاصرہ ٹوٹ گیا۔ یونین نے اس فتح کو محض پروپیگنڈا قرار دیا اور نومبر 1981 میں " اهداف فوری قیام سربداران" کے عنوان سے بیانیہ جاری کر کے مسلح جنگ کا اعلان کر دیا۔ اس بیانیے کے دس اہداف میں نظام کا خاتمہ اور مجلسِ مؤسسان کی تشکیل شامل تھی۔ اس کا آٹھواں ہدف عراقیوں کو ملک سے نکالنے کے لیے وسائل جمع کرنا بتایا گیا۔

اس طرح 9 نومبر 1981 کو شہر آمل پر قبضے کے لیے " قیامِ فوری" کا منصوبہ شروع کیا گیا جو ابتدائی گھنٹوں میں ہی ناکام ہو گیا۔ اس کے ساتھ ہی یونین نے جنگ جاری رکھنے کی مذمت میں اور عوام کو فوج سے تعاون نہ کرنے اور محاذ پر نہ جانے کے پیغامات شائع کیے۔ دسمبر 1981 میں ان کا تجزیہ یہ تھا کہ ایران اور نہ عراق میں سے کوئی بھی ملک 15 ماہ کی جنگ جاری رکھنے کے قابل نہیں اور دونوں بحران کا شکار ہیں اور کسی کی بھی کامیابی کی کوئی امید نہیں۔

26 جنوری 1982 کو یونین نے دوبارہ آمل کے سیاسی و انتظامی مراکز پر قبضے کی کوشش کی جو پھر ناکام رہی۔ آمل کی اس چوٹ کے بعد، ستمبر 1982 میں خوزستان میں بھی ان کی آرگنائزیشن بکھر گئی اور 138 ارکان گرفتار ہوئے اور ان کے گوداموں سے اسلحہ برآمد ہوا۔ بچ جانے والے ارکان بیرونِ ملک فرار ہو گئے اور یکم اکتوبر 1982 کو وہ بیرونِ ملک منافقین کی " شورای ملی مقاومت" میں شامل ہو گئے۔ ان دنوں ان کا تجزیہ یہ تھا کہ جنگ کا جاری رہنا نظام کی مضبوطی کا سبب ہے اور جنگ کا خاتمہ دونوں ملکوں کے نظام کو خطرے میں ڈال دے گا۔

1982 کے موسمِ گرما میں اندرونِ ملک قیادت کی گرفتاری سے تنظیم ختم ہو گئی، لیکن بیرونِ ملک ارکان نے 1983 کی بہار میں چوتھی کونسل کی اور تنظیم کو بحال کرناچاہا۔ اگلے سال انہوں نے " انٹرنیشنل انقلابی تحریک" بنائی لیکن ملک کے اندر ان کے گروہ " سہند" کا مرکز مئی کے مہینے میں پکڑا گیا اور 309 افراد گرفتار ہوئے۔ یہ یونین 1985 میں نام نہاد قومی کونسل سے الگ ہو گئی اور کردستان میں دوبارہ مسلح کارروائیوں کی طرف لوٹ گئی۔

بالآخر مئی 2001 میں اس یونین نے کوملہ، سہند اور دیگر گروہوں کے ساتھ مل کر " حزبِ کمونیستِ ایران" یعنی " ایران کمیونسٹ پارٹی" کی بنیاد رکھی اور " حقیقت" اس پارٹی کا ترجمان بن گیا۔⁠[1]


حوالہ جات

  • [1]. مقالے کا خلاصہ ماخوذ از: دائرۃ المعارفِ دفاعِ مقدس، جلد 1، مرکزِ دائرۃ المعارف ریسرچ انسٹی ٹیوٹ آف ہولی ڈیفنس سائنسز اینڈ نالج، تہران: صریر، دوسرا ایڈیشن، 2011، صفحات 313-317

تکمیل، ترمیم یا غلطی کی اطلاع