آخری مرحلہ
یہ فیچر فلم 1995 میں محسن محسنی نسب نے بنائی جس کا مرکزی خیال یہ تھا کہاایک کیمیکل ٹیم کے ذریعے عراق کی جانب سے کیمیکل بم حملوں کو ناکارہ بنایا جائے۔
اس فلم کے ڈائریکٹر اور اسکرپٹ رائٹرمحسن محسنی نسب، اسسٹنٹ ڈائریکٹ علی غفاری، سینیماٹوگرافر حسن علی مردانی، گروپ سینماٹو گرافی حسن اسفندیاری، رستم حمیدی اور محمد حسین زاده، لائٹنگ سیروس عبدلی، اسکرپٹ سپروائزر علی عبداللہ زاده، ڈبنگ سپروائزر خسرو خسروشاہی، ساؤنڈ اینڈ مکسنگ اسحاق خان زادی، اسپیشل ایفیکٹس محمدرضا شرف الدین اور مرتضیٰ اکبری، ایڈیٹر روح اللہ امامی، بیک گراؤنڈ میوزک اور پرفارمنس ناصر چشم آذر، میک اپ ڈیزائنر فرید کشن فلاح، سیٹ ڈیزائنر اور کاسٹیوم ڈیزائنر محمدرضا شجاعی، فوٹوگرافر: ہاشم عطار، پروڈکشن مینیجر: حبیب اللہ کاسہ ساز، پروجیکٹ ایگزیکٹو جواد شمقدری، پوسٹر ڈیزائنر محمدعلی باطنی اور اداکار: جہان بخش سلطانی، حسن عباسی، حسین یاری، حمید طالقانی، حبیب اللہ کاسہ ساز، علی غفاری، شبنم اعلائی، احمد میررفیعی، مرتضیٰ اکبری، محمدرضا شرف الدین، سعید نیک پور اور دیگران شامل ہیں۔
92 منٹ کی اس فلم کو 21 ویں ثارالله ڈویژن کی کمان کی مدد سے بنایا گیا ہے، اور اسی ڈویژن کے شہدا کے نام کے ساتھ منسوب کی گئی ہے۔ یہ فلم ادارہ " دفاع مقدس سنیما ایسوسی ایشن برائے دستاویزات و تجربات" اور مہراب فلم" کی پیشکش ہے اورانجمن سینمائے دفاع مقدس کے تعاون سے 24 جولائی 1996 کو افریقہ، یورپ، ایشیا، البرز، شہر تماشا، شیرین، پیروزی، فرخ اور دیگر سینما گھروں میں عمومی نمایش کے لئے پیش کی گئی اور اس نے 499,122,100 ریال کا بزنس کیا۔[1]
عراقی فوج کی کیمیائی حملوں میں شدت آجانے کے بعد، کمانڈ ہیڈ کوارٹر اس کا مقابلہ کرنے کے لیے کسی راہ حل کی تلاش میں ہوتا ہے۔ ایک کیمیائی ماہر جس کا نام صدرا (جہانبخش سلطانی) ہے، یوسف نامی (علی غفاری) ایک مجاہد کی شہادت کی خبر سن کر متاثر ہوتا ہے اور محاذ پر چلا جاتا ہے۔ وہ بیس کمان کے جاسوسی دستوں کے تعاون سے دشمن کے کیمیائی حملے کا مقابلہ کرنے کے لیے تجربات انجام دیتا ہے۔ صدرا کی ملاقات ایک ایسے مجاہد سے ہوتی ہے جس نے اپنا چہرہ ڈھانپ رکھا ہے اور جس کا نام سید ہے، جس کی موجودگی ہر آپریشن میں مجاہدین کے لیے فتح کا باعث بنتی ہے۔ عراقی کیمیائی بموں کے گوداموں کی نشاندہی کرنے کے بعد، مجاہدین کا ایک گروہ سید اور صدرا کے ساتھ ان بموں کو تباہ کرنے کے لیے بھیجا جاتا ہے۔ آپریشن کے بعد صرف سید، صدرا اور ایک مجاہد جو اپنی بینائی کھو چکا ہے، زندہ بچتے ہیں۔ سید، صدرا کو یہ ذمہ داری سونپتا ہے کہ وہ آپریشن کی کامیابی کی خبر پیچھے محاذ تک پہنچائے لیکن صدرا بھی مجاہدین میں شامل ہونے کا فیصلہ کرتا ہے۔[2]
یہ فلم فجر فلم فیسٹیول کے چودہویں دور میں چار ایوارڈز کے لیے نامزد ہوئی اور حسین یاری نے بہترین معاون اداکار کا کرسٹل سیمرغ کا ایوارڈ جیتا۔ نیز یہ فلم مقدس دفاع فیسٹیول کے چھٹے دور میں بہترین اسکرپٹ، بہترین سنیماٹوگرافی اور فیسٹیول کا خصوصی جیوری ایوارڈ حاصل کرچکی ہے۔[3]
بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ فلم کا ایک بنیادی مسئلہ کہانی کے مرکزی خیال کو پیش کرنے کا غلط طریقہ ہے۔ فلم شروع میں ناظرین کو مناسب معلومات دینے میں ناکام ہے۔ کسی فلم کا سب سے اہم حصہ اس کا آغاز ہے؛ اس فلم کے ابتدائی بیس منٹ اپنے اور دشمن دستوں کے درمیان حملوں اور جھڑپوں میں گزرتے ہیں اور ناظر صرف اتنا سمجھ پاتا ہے کہ دونوں گروہوں کے درمیان جنگ جاری ہے لیکن اس لڑائی کی وجہ واضح نہیں ہے۔ فلم کے آدھے گھنٹے گزرنے کے بعد ہی ہمیں پتہ چلتا ہے کہ لڑائی کی وجہ عراق کا کیمیائی بم حملہ ہے تاکہ ناظر فلم کے کردار کے موضوع کو آگے بڑھانے کے لیے تیار ہوسکے۔[4]
محسنی نسب اپنی دو پچھلی فلموں (باز باران، سپیدبال) میں، نہ تو سنیما کے ناقدین کی نظر میں اور نہ ہی عوامی ردعمل کی روشنی میں کامیاب رہے، لیکن فجر فیسٹیول میں اس فلم کے ناظرین اور بعض ناقدین کے مطابق آخری مرحلہ زیادہ مضبوط اور بہتر تعمیر کا حامل ہے اور اس میں سنیماٹک پیشکش ہے۔ اس کے خیال اور سوچ کو ایک پرکشش اور مؤثر فلم کے لیے جانا جاتا ہے۔
بعض ناقدین کا کہنا ہے کہ فلم کا موضوع نیا اور نسبتاً انوکھا ہے؛ وہ لوگ جو ایک جیسا بسیجی رومال لیےایک ہی راستے پر چلتے ہیں، اگرچہ یہاں اس مقام پر اچھی اداکاری نہیں ہوئی لیکن پھر بھی یہ مؤثر ہے۔ فلم کے مؤثر مناظر میں سے ایک سید کی شہادت کی خبر اس کے والد تک پہنچانے کا منظر ہے جو ناظر پر گہرا اثر چھوڑتا ہے۔
ماہرین کے مطابق دفاع مقدس کے سنیما میں دو مختلف اقسام کے سنیما موجود ہیں؛ ایک جھڑپوں اور دھماکے کے مناظر دکھانے پر زیادہ توجہ دیتا ہے جبکہ دوسرے میں انسانوں کے باطن اور کردار سازی زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔ آخری مرحلہ دوسری قسم سے تعلق رکھتا ہے، لیکن کسی حد تک دونوں اقسام کے درمیان اجنبیت و ابہام ہے کیونکہ اگرچہ اس کا بنیادی مقصد بسیجیوں کے جذبات اور باطن کو دکھانا ہے، لیکن اس میں ایکشن، دھماکے اور جھڑپوں کے مناظر بھی بکثرت دکھائے گئے ہیں اور یہ فلم کی نوعیت اور مزاج کے مطابق نہیں ہے جس کی وجہ سے فلم اپنے ابتدائی مقصد سے بھٹک گئی ہے۔
فلم کے ویژول ایفیکٹس کے انچارج محمدرضا شرف الدین ایکشن سینز کی زیادہ تعداد کی وجہ یوں بیان کرتے ہیں: اگر آپ جنگ میں موجود ہوتے اور ہتھیاروں، بارود، گولے باری اور زبردست دھماکوں کا ایک جہنم دیکھتے تو آپ سمجھ جاتے کہ اس فلم کے ایکشن، حقیقی جنگ میں پیش آنے والے واقعات کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں ہیں۔
فلم کے ہدایت کار ایکشن سینز کی کثرت کی وجہ دشمن کی طاقت کو نمایاں کرنا اور ایران کے مجاہدین کی بہادری اور کوششوں کو زیادہ واضح کرنا بتاتے ہیں۔
یہ فلم فجر فیم فیسٹیول میں زیادہ تر ناقدین مثبت آراء حاصل کرنے میں کامیاب رہی اور ان میں سے اکثر نے فلم کی تعریف کی۔ بعض ناقدین نے یہ بھی کہا کہ اس فلم میں سید کا کردار ایک نیا اور انوکھا موضوع ہے جس کے جنگی سنیما میں داخلے نے تنوع اور تحرک پیدا کیا ہے؛ سید ایک ایسا نہ تھکنے والا مجاہد ہے جس کی شہادت کے بعد دوسرے مجاہدین اس کا بسیجی رومال اپنے سروں پر باندھتے ہیں اور اس کی یاد میں اس کی سفر کو جاری رکھتے ہیں۔ درحقیقت سید ایک علامت ہے جو ایک مجاہد کی ضروری صفات سے آراستہ ہوکر دوسروں کو بھی بلند حوصلے کے ساتھ مقصد کی طرف گامزن رہنے کی ترغیب دلاتا ہے۔[5]
حوالہ جات
- [1]. سالنامہ آماری فروش فیلم و سینمای ایران 1996، 2017، صفحہ 7
- [2]. بہارلو، عباس، فلم شناخت ایران- فلم شناسی سنیما ی ایران (2003-1993)، تہران، قطره، 2014، صفحہ 77 اور 78
- [3]. http://www.sourehcinema.com
- [4]. ماہنامہ فیلم، شماره 192، ستمبر 1996، صفحہ 95
- [5]. ماہنامہ سروش، شماره 799، 17 اگست 1996، صفحہ 48-45