پہلی شکاری ایئر بیس، مہر آباد

مہر آباد کا پہلا لڑاکا فضائی اڈہ جو تہران کے مغرب میں واقع ہے، اسے مادر بیس کی حیثیت حاصل ہے اور اس نے دفاعِ مقدس کی فضائی جنگوں میں اہم کردار ادا کیا۔

مہر آباد ایئرپورٹ دو حصوں، فوجی اور سویلین میں منقسم ہے۔ شمالی حصہ سویلین مسافروں کے لیے ہے جبکہ جنوبی حصہ، پہلا لڑاکا فضائی اڈے کے طور پر فوجی مقاصد کے لیے استعمال ہوتا ہے۔

مہر آباد بیس کی تاریخ دوسری عالمی جنگ سے پہلے کی ہے۔ ستمبر 1941 میں اتحادی افواج کے ایران پر قبضے کے بعد برطانوی فضائیہ نے مہر آباد ایئرپورٹ پر قبضہ کر کے وہاں اپنے طیارے تعینات کر دیے۔⁠[1]   جنگ کے خاتمے اور اتحادیوں کے انخلاء کے بعد مہر آباد ایئرپورٹ کی تعمیر و ترقی کا آغاز فوجی اور سویلین، دونوں حصوں میں ہوا۔ 1951 میں ایران میں ہوا بازی کا پہلا بین الاقوامی مقابلہ مہر آباد ایئرپورٹ پر منعقد ہوا۔ مئی 1956 میں پہلے ٹی-33 طیاروں کی مہر آباد آمد کے ساتھ یہ ایئرپورٹ جیٹ طیاروں سے لیس ہونے والا پہلا لڑاکا ہوائی اڈہ بن گیا۔ بعد ازاں ایف-84، ایف-86، ایف-5 اور ایف-4 طیارے بھی مہر آباد کے بیڑے میں شامل ہو گئے۔⁠[2]

1970 کی دہائی میں فضائیہ کی توسیع کے ساتھ مہر آباد کے پہلے اڈے کو مختلف اقسام کے لڑاکا و ٹرانسپورٹ طیاروں اور ہیلی کاپٹروں سے لیس کیا گیا۔ ستمبر 1980 میں مہر آباد بیس کے پاس 63 عدد ایف-4، 19 عدد ایف-5 اور اس کے ساتھ 27 عدد سی-130، 15 عدد بوئینگ 707، 11 عدد بوئینگ 747، 18 عدد فوکر ایف-27 اور 3 عدد جیٹ فالکن طیارے موجود تھے۔⁠[3]

22 ستمبر 1980 کو مہر آباد بیس ان اولین ہوائی اڈوں میں شامل تھا جن پر عراق نے فضائی حملہ کیا۔ اس حملے میں 3 عدد بوئینگ 707 اور ایک عدد بوئینگ 747 کو معمولی نقصان پہنچا، جبکہ ایک عدد سی-130 اور ایک عدد بوئینگ 747 تباہ ہو گئے اور ایک شخص شہید ہوا۔ اس حملے کے بعد مزید نقصانات سے بچنے کے لیے طیاروں کو دوسرے ہوائی اڈوں پر منتقل کرنے کا حکم دیا گیا۔⁠[4]

23 ستمبر 1980 کو ایرانی فضائیہ نے عراق کے اہم فوجی اڈوں اور مراکز کے خلاف آپریشن کمان-99 کے نام سے ایک بڑا آپریشن کیا جس میں مہر آباد سے 12  سرحد پار پروازیں کی گئیں اور یہ سلسلہ اگلے دنوں میں بھی جاری رہا۔⁠[5]

اکتوبر 1980 میں شمالی خوزستان میں دشمن کی پیش قدمی اور دزفول کے وحدتی بیس کو فضائی مدد کی ضرورت کے پیشِ نظر مہر آباد کے کچھ ایف-5 اور ایف-4 طیارے وہاں بھیجے گئے جنہوں نے اس علاقے کے دفاع میں اہم کردار ادا کیا۔⁠[6]

دفاعِ مقدس کے دوران مہر آباد بیس کے یونٹس میں سے ایک 11واں ریکونیسنس سکواڈرن تھا جس کے پاس فضائی فوٹو گرافی کے لیے مخصوص آر ایف-4 طیارے تھے۔ اس یونٹ کے جنگی اقدامات میں عراق کے اندرونی علاقوں اور فرنٹ لائنز کی فضائی تصاویر تیار کرنا شامل تھا، جس نے مسلح افواج کے کمانڈروں کو مختلف آپریشنز کی منصوبہ بندی اور میدانِ جنگ میں اپنی افواج کی رہنمائی کرنے میں اہم مدد فراہم کی۔ مثال کے طور پر اس سکواڈرن نے آپریشن بیت المقدس اور خرم شہر کی آزادی کے لیے جنوبی محاذ کی فضائی فوٹو گرافی کی خاطر 22 پروازیں کیں۔⁠[7]

مہر آباد کی ایک اور خصوصیت اس بیس پر بوئنگ 707 اور 747 طیاروں کی تعیناتی تھی۔ یہ طیارے جنگ کے دوران رزمندگانِ اسلام کی بھاری نقل و حمل اور زخمیوں اور اسلحے کی منتقلی کے لیے استعمال کیے گئے۔ مہر آباد کے عملے کا ایک اور کام پیچیدہ اور بڑے طیاروں کی مرمت اور دیکھ بھال تھا، جس کی بدولت جنگ کے اختتام تک یہ طیارے پرواز کے قابل رہے۔⁠[8]

اسی طرح دفاعِ مقدس کے دوران مختلف لڑاکا طیاروں ایف-4 اور ایف-14 کو فضا میں ایندھن فراہم کرنا بھی اسی یونٹ کے اقدامات میں شامل تھا۔ مثال کے طور پر اپریل 1981 میں فضائیہ نے ایک سٹریٹجک آپریشن کے دوران اردن کی سرحد کے قریب واقع عراقی ہوائی اڈوں، جنہیں ایچ-3 کہا جاتا ہے، پر حملہ کیا اور دشمن کی فضائی تنصیبات اور متعدد طیاروں کو تباہ کر دیا، جو بوئنگ 707 اور 747 جیسے ایندھن فراہم کرنے والے طیاروں کے بغیر ممکن نہیں تھا۔⁠[9]

ایف-27 طیاروں کا سکواڈرن بھی ان فضائی ٹرانسپورٹ یونٹس میں شامل تھا جنہوں نے دفاعِ مقدس کے دوران فوجی دستوں اور زخمیوں کی نقل و حمل کی ذمہ داری نبھائی۔⁠[10]

ایک اور یونٹ جس نے جنگ کے دوران فضائی نقل و حمل میں کردار ادا کیا، سی-130 طیاروں کا اسکواڈرن تھا۔⁠[11] مہر آباد کی تاریخ کا ایک تلخ ترین واقعہ اسی یونٹ میں پیش آیا۔ 29 ستمبر 1981 کو ایک سی-130 طیارہ جو فوج اور سپاہِ پاسداران کے اعلیٰ حکام کو لے کر آ رہا تھا، جو آپریشن ثامن الائمہ کی کامیابی اور آبادان کا محاصرہ ٹوٹنے کے بعد محاذ سے واپس پلٹ رہے تھے، تہران کے قریب حادثے کا شکار ہو گیا جس کے نتیجے میں یہ تمام کمانڈر شہید ہو گئے۔⁠[12]

مہر آباد بیس کے ہیلی کاپٹر سکواڈرن نے بھی دفاعِ مقدس کے دوران اہم خدمات انجام دیں۔ مثال کے طور پر فروری مارچ 1984 میں آپریشن خیبر میں اس یونٹ کی شرکت کا ذکر کیا جا سکتا ہے جس کے نتیجے میں جزائر مجنون پر قبضہ حاصل کیا گیا۔⁠[13]

جنگ کے دوران مہر آباد بیس پر جاسوسی اور سگنل انٹیلی جنس کے خصوصی طیارے بھی تعینات تھے جو ملک کی مغربی اور جنوب مغربی سرحدوں پر پرواز کرتے ہوئے دشمن کی فوجی اور فضائی نقل و حرکت کو ریکارڈ کرتے اور متعلقہ مراکز کو اطلاع دیتے تھے۔⁠[14]

جنگ کے خاتمے کے ساتھ مہر آباد بیس کے پروازی یونٹس کے ڈھانچے میں کچھ تبدیلیاں لائی گئیں۔ ستمبر 1988 میں 11واں ریکونیسنس سکواڈرن اور آر ایف-4 طیارے ہمدان کے شہید نوژہ بیس منتقل کر دیے گئے اور ان کی جگہ 1990 میں نئے میگ-29 طیارے شامل کیے گئے۔⁠[15]   کچھ عرصے بعد نئے سوخو-24 بمبار طیارے بھی مہر آباد میں تعینات کیے گئے۔⁠[16]

جنگ کے بعد مہر آباد بیس اور اس کے ٹرانسپورٹ طیاروں نے قدرتی آفات کے دوران لوگوں کی مدد اور متاثرین تک امداد پہنچانے میں ہمیشہ اہم کردار ادا کیا ہے۔⁠[17]

اب مہر آباد بیس ایک مدر بیس کے طور پر ملک بھر کے دیگر فضائی اڈوں کی مدد کرتا ہے۔ اس کے علاوہ فضائیہ کے مختلف لڑاکا اور ٹرانسپورٹ طیاروں کی اوور ہالنگ (مرمت) بھی اسی بیس پر کی جاتی ہے، اور اس کے ساتھ ساتھ لڑاکا طیاروں کے ذریعے تہران کے علاقے کی فضائی حدود کی حفاظت کی ذمہ داری بھی اسی کے سپرد ہے۔⁠[18]

مہر آباد بیس کے نمایاں کمانڈروں میں جو دفاعِ مقدس کے دوران وہاں تعینات تھے اور بعد میں فضائیہ کے سربراہ بنے، کرنل پائلٹ جواد فکوری (شہید) اور کرنل پائلٹ ہوشنگ صدیق (مرحوم) کا ذکر کیا جا سکتا ہے۔⁠[19] اس وقت بریگیڈیئر جنرل پائلٹ بہمن بہمرد اس بیس کی کمان سنبھالے ہوئے ہیں۔⁠[20]

2012 سے مہر آباد کے پہلے لڑاکا فضائی اڈے کا نام میجر جنرل پائلٹ حسین لشکری کے اعزاز میں، جو 18 سال تک عراق میں اسیر رہے، " شہید لشکری ایئر زون" رکھا گیا ہے۔⁠[21]

 


حوالہ جات

  • [1]. طلوعی، مرتضی، تاریخِ نیرویِ ہوائیِ شاہنشاہی، تہران، انتشاراتِ نیرویِ ہوائی، 1976، ص 117۔
  • [2]. ایضاً، ص 195، 211، 217، 220، 271 اور 279
  • [3]. گروہِ مؤلفینِ تاریخِ دفاعِ مقدسِ ہوائی، تاریخِ نبردہائے ہوائی - تا آغازِ تہاجمِ سراسریِ عراق، جلد 1، تہران، مرکزِ انتشاراتِ راہبردی نہاجا، 2014، ص 389 اور 394
  • [4]. ہیئت تدوینِ تاریخِ دفاعِ مقدس، تقویمِ مستندِ عملکردِ نیرویِ الہیِ ہوائیِ ارتشِ جمہوری اسلامی ایران، جلد 3، ستمبر اکتوبر 1980، تہران، مرکزِ انتشاراتِ راہبردی نہاجا، 2018، ص 11 اور 12
  • [5]. ایضاً، ص 64
  • [6]. شیر محمد، محسن، پایداریِ وحدتی، تاریخِ پایگاهِ چہارمِ شکاری دزفول، جلد 1، تہران، مرکزِ انتشاراتِ راہبردی نہاجا، ص 163 اور 329
  • [7]. شیر محمد، محسن، چشمانِ عقاب، تہران، مرکزِ انتشاراتِ راہبردی نہاجا، 2017، ص 9 اور 219۔
  • [8]. معرفیِ یگانِ ترابریِ نیرویِ ہوائی، ماہنامہ صف، شمارہ 60، دسمبر 1984، ص 10-13۔
  • [9]. گروہِ اساتیدِ معارفِ جنگ، معارفِ جنگ، تہران، انتشاراتِ ایرانِ سبز، 2014، ص 302
  • [10]. گردانِ حمل و نقلِ ایف-27، ماہنامہ صف، شمارہ 59، اکتوبر نومبر 1984، ص 41 اور 45
  • [11]. " برفرازِ اقتدار: گفتگو با فرماندهِ پایگاهِ ہوائیِ شہید لشکری"، ماہنامہ صف، شمارہ 384، فروری 2013، ص 27
  • [12]. عروج از خاک بہ افلاک، ماہنامہ شاهدِ یاران، شمارہ 107-108، اگست تا اکتوبر 2014، ص 76
  • [13]. " پرواز در شب: گفتگو با سردار جلالی فرماندهِ ہوانیروز در زمانِ عملیاتِ خیبر"، خیبر شکنان - ویژہ نامہ سالگردِ نبردِ عظیمِ خیبر، شمارہ 2، فروری مارچ 2008، ص 45۔
  • [14]. خلیلی، حسین، نبردہائے ہوائیِ ایران، تہران، ایرانِ سبز، 2019، ص 339
  • [15]. پردیس، رضا، در غربت جنگیدیم، تہران، ایرانِ سبز، 2009، ص 149
  • [16]. لاہوتی، حسن، کارنامہ و خاطراتِ ہاشمی رفسنجانی در سال 1992، تہران، نشرِ معارفِ انقلاب، 2015، ص 570
  • [17]. نصرتی، مهرداد، حماسہء عملیاتِ 140 فروندی در گفتگو با فرماندهِ پایگاهِ یکمِ شکاری، ماہنامہ صف، شمارہ 458، ستمبر اکتوبر 2019، ص 37
  • [18]. " برفرازِ اقتدار: گفتگو با فرماندهِ پایگاهِ ہوائیِ شہید لشکری"، ایضاً، ص 27 اور 28
  • [19]. قاضی میر سعید، سید حکمت، چشمی در آسمان، تہران، انتشاراتِ سازمانِ عقیدتی سیاسیِ ارتش، ص 18؛ خبر آن لائن نیوز ایجنسی، 13 جولائی 2020۔
  • [20]. تسنیم نیوز ایجنسی، 2 اگست 2021
  • [21]. فارس نیوز ایجنسی، 3 مارچ 2013

تکمیل، ترمیم یا غلطی کی اطلاع